خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 239 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 239

خطبات طاہر جلد۴ 239 خطبه جمعه ۱۵ / مارچ ۱۹۸۵ء والے چھالوں کے پانی سے وہ انگارے بجھا کرتے تھے۔ پس کلمہ مٹانے کے وہ دردناک واقعات جو سرزمین عرب میں گزرے تھے ویسے ہی دردناک واقعات آج پاکستان میں گزر رہے ہیں لیکن خوفناک ظلم یہ ہے کہ اب ایک اسلامی مملکت کے کارندوں کی طرف سے یہ کارروائی ہو رہی ہے۔ آج دنیا میں شیطان سے بڑھ کر کوئی خوش نہیں ہوگا کیونکہ آج وہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرف منسوب ہونے والے لوگوں سے وہ حرکت کروارہا ہے جو کسی زمانہ میں آپ کے اولین دشمن کیا کرتے تھے۔ جب ان سے پوچھا جائے کہ تم کیا کرتے ہو؟ کیا تم میں کوئی عقل اور شعور باقی نہیں رہا ؟ تو پھر وہ بہت بڑی دلیلیں دیتے ہیں ۔ ان دلائل میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ تم تو نا پاک لوگ ہو اس لئے اگر تم کلمہ پڑھو گے یا کلمہ سینہ پر لگاؤ گے تو کلمہ کی بے حرمتی ہو گی اور ہم یہ بے حرمتی برداشت نہیں کر سکتے ۔ کتنی تعجب انگیز دلیل ہے؟ یہ کلمہ تو نا پاکوں کو پاک بنانے کے لئے آیا ہے یہ اسی لئے تو نازل ہوا تھا کہ بدوں کا تزکیہ کرے، اگر احمدی ناپاک ہیں تو تمہیں خوش ہونا چاہئے کہ ان نا پاکوں کو بھی اس کلمہ نے طبیب اور پاکیزہ کر دیا ہے۔ یہ و محمدمصطفی ﷺ کا کلمہ ہے، یہ خدائے واحد و یگانہ کا کلمہ ہے، یہ تو اس مز کی کا کلمہ ہے جس سے بڑھ کر کوئی مز کی کبھی پیدا نہیں ہوا۔ اس کلمہ نے تو صدیوں کے ناپاک اور پلید لوگوں کو بھی پاک بنا دیا تھا۔ یہ کسی ملاں کا کلمہ تو نہیں جو پاکوں کو بھی پلید کر دے، یہ کسی آمر وقت کا کلمہ تو نہیں جو نیکوں کو بھی بدنام بنا دے۔ پس اگر تمہارے کہنے کے مطابق جماعت احمد یہ ناپاک ہی ہے تو پھر اس نا پاک جماعت کو صرف یہی کلمہ چاہئے یعنی محمد مصطفی علی اور خدائے واحد و یگانہ کا کلمہ، کسی اور کے بنائے ہوئے کلمہ کی ہمیں کچھ پرواہ نہیں۔ صلى الله دوسرا اعتراض وہ یہ کرتے ہیں کہ احمدیوں کے دل میں یہ کلمہ نہیں ، منہ سے محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھتے ہیں اور دل میں کہہ رہے ہوتے ہیں احمد رسول اللہ یعنی مرزا غلام احمد قادیانی رسول اللہ ۔ عجیب جاہلانہ بات ہے پھر اس سے بھی بڑھ کر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہم سے کلمہ چھینے کی ایک مکروہ حرکت تو کی تھی مگر ساتھ ہی خدائی کے دعویدار بھی بن بیٹھے اور آنحضرت علی صلى الله سے بھی افضل ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ملتا کہ علوس کسی کلمہ پڑھنے والے کے متعلق آپ نے یہ فرمایا ہو کہ تم جھوٹ بول رہے ہو دل سے کچھ اور کہتے ہو اور اوپر سے کچھ اور کہہ رہے ہو ۔ بلکہ جن لوگوں کے متعلق خدا نے خبر دے دی تھی کہ