خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 237 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 237

خطبات طاہر جلدم در پیش نہیں ہوا تھا۔237 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۸۵ء کلمه تو حید کو مٹانے کے نام پر غیر مسلم کوششیں مختلف وقتوں میں ہمیں تاریخ میں نظر آتی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ خوفناک اور بھیا نک کوشش خود آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں کی گئی تھی لیکن مسلمانوں کی طرف سے اس کوشش کا تصور بھی موجود نہیں تھا کہ اسلام کی طرف منسوب ہونے والے اتنے بد قسمت نکلیں گے کہ اپنے ہاتھوں کو کلمہ مٹانے کے لئے استعمال کریں گے۔کوئی مسلمان اس بات کا وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا۔یہ وہ سہرا ہے جو آج پاکستان کی آمرانہ حکومت کے سر باندھا جارہا ہے اور آج پاکستان میں ایک نئی تاریخ، ایک نہایت ہی بھیانک اور خوفناک خونی تاریخ لکھی جارہی ہے اور اسلام کی حفاظت اور اسلام کی خدمت کا یہ تصور پیش کیا جارہا ہے کہ اسلام کی بنیادوں پر حملہ کرو، کلمہ توحید پر حملہ کرو، کلمہ رسالت پر حملہ کرو اور اگر احمدی کلمہ توحید اور کلمہ رسالت کی عزت سے باز نہ آئیں اور اسے تسلیم کرنا نہ چھوڑیں اور اس کے اقرار سے تو بہ نہ کریں تو انہیں سخت سے سخت سزائیں دو۔یہ ہے آج کا شدید ترین حملہ جو اسلام کے خلاف ایک اسلامی ملک کہلانے والے کی سرزمین سے اٹھا ہے اور جس نے ساری فضا کو دھندلا دیا ہے اور گندا کر دیا ہے۔یہ کارروائیاں کس طریق پر کی جارہی ہیں اس کا صرف ایک نمونہ میں آپ کے سامنے آج پیش کرتا ہوں۔ایک احمدی نوجوان جس کو کلمہ لکھنے کے جرم میں پکڑا گیا وہ اپنے قلم سے سرگزشت لکھتے ہیں کہ مجھ پر کیا بیتی اور کس طرح پاکستان کی آمرانہ حکومت کے کارندوں نے اسلام کی خدمت“ سرانجام دی۔وہ لکھتے ہیں کہ : ”جب مجھے پکڑا گیا تو پولیس والے نے مجھے مکوں سے مارنا شروع کر دیا۔پھر پولیس کا ایک اور سپاہی بھی آ گیا دونوں نے مل کر پہلے تھپڑوں اور مکوں سے خدمت کی اور پھر ایک دکان جس میں پولیس نے چوکی بنائی ہوئی تھی وہاں لکڑی کے ڈبے میں لٹا کر مجھے مارا گیا۔میں اس دوران منہ سے کلمہ کا ورد کرتا رہا۔پھر یہاں سے تانگے میں بٹھا کر تھانہ باغبانپورہ لے جایا گیا، راستہ میں بھی تھپڑ اور مکے مارے گئے اور میں رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ ( البقره (۲۵)