خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 236
خطبات طاہر جلدم 236 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۸۵ء در شیخ مخلوف اور ظفر اللہ خان کے درمیان نمایاں فرق ہے اول الذکر مسلم غیر عامل ہے اور اگر شیخ مذکور عمل کرتا بھی ہے تو تفرقہ انگیزی کے لئے ، برخلاف اس کے ظفر اللہ خان مسلم عامل الخیر ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی آیات میں ہمیشہ ایمان اور عمل صالح کا اکٹھا کر کیا ہے۔آہ ! ایمان اور عمل صالح کے باوجود مسلمانوں کو کافر قرار دینا کتنا ہی 66 دور از عقل ہے۔(بیروت المساء شماره ۲۲۴ مورخه ۲۹ جون ۱۹۵۲ء) بہر حال ایک وہ وقت تھا جب کہ عالم اسلام کو ایک خطرہ درپیش تھا اور جیسا کہ جماعت احمدیہ کی ہمیشہ سے یہ روایات رہی ہیں کہ ہر ایسے خطرہ کے وقت جو اسلام یا مسلمانان عالم کو در پیش ہو جماعت اور جماعت احمدیہ کے خلفاء کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ نمایاں توفیق ملی اور یہ امتیازی سعادت نصیب ہوئی کہ سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر ان خطرات کی طرف متوجہ کرنے والے وہی تھے اور ان کی متابعت میں جماعت احمدیہ نے ہر خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا لیکن جماعت احمدیہ کو ہر طرف سے اس کی یہ سزا دی گئی کہ نہ صرف یہ کہ وہ استعماری یا اسلام دشمن طاقتیں جماعت احمدیہ کو اس حریت ضمیر کی سزا دینے پر تل بیٹھیں بلکہ اس کام کے لئے خود مسلمانوں کو ہمیشہ استعمال کیا گیا۔عالم اسلام کو یہ خطرات باہر سے بھی درپیش رہے اور اندر سے بھی۔باہر سے بھی اسلام دشمن طاقتوں نے یہ خطرات اسلام کے لئے پیدا کئے اور اندر سے ان ایجنٹوں کو استعمال کیا جو ہمیشہ سے استعماریت کے ایجنٹ بنتے رہے ہیں۔پس آج بھی کچھ اسی قسم کا واقعہ در پیش ہے۔آج بھی عالم اسلام کو ایک خطرہ ہے لیکن ایک ایسا مہیب اور ایسا ظالمانہ خطرہ ہے کہ تاریخ اسلام میں ایسا خطرہ کبھی اسلام کو پیش نہیں آیا تھا۔آج یہ خطرہ در حقیقت نہ روس کی طرف سے، ہے نہ امریکہ کی طرف سے، نہ بدھ پرست طاقتوں کی طرف سے ہے اور نہ صیہونی طاقتوں کی طرف سے ہے، نہ مشرق سے یہ خطرہ ہے اور نہ مغرب سے۔آج اسلام کو یہ خطرہ ایک ایسی حکومت کی طرف سے ہے جو مسلمان ہونے کی دعویدار ہے، جو اسلام کی عزت اور وقار کے نام پر کھڑی ہوئی اور اسلام کی عزت و وقار کا واسطہ دے کر مسلمانان پاکستان پر مسلط ہوگئی۔یہ ایک ایسا خطرہ ہے جس سے بڑھ کر اس سے پہلے کبھی بھی عالم اسلام کو ایسا خطرہ