خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 235 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 235

خطبات طاہر جلدم 235 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۸۵ء کی رو سے مسلمان ہیں۔روئے زمین کے تمام حصوں میں اسلام کی مدافعت کرنے میں آپ کامیاب رہے اور اسلام کی مدافعت میں جو موقف بھی اختیار کیا گیا اس کی کامیاب حمایت ہمیشہ آپ کا طرہ امتیاز رہا اس لئے آپ کی عزت عوام کے دلوں میں گھر کر گئی اور مسلمانان عالم کے قلوب آپ کے لئے احسان مندی کے جذبات سے لبریز ہو گئے۔(جريدة الاخبار القاهرية مؤرخه ۲۳ جون ۱۹۵۲ء) کیا یہ مسلمانان عالم پاکستان میں نہیں بستے کیا انہیں علم نہیں ہے کہ ایک وقت تھا کہ عالم اسلام اور عالم اسلام کا بھی وہ حصہ جہاں سے اسلام کا نور پھوٹا تھا وہ با نگ دہل یہ اعلان کر رہا تھا کہ مسلمانان عالم چوہدری ظفر اللہ خان کی ان خادمانہ کوششوں کے ممنون احسان ہیں جو انہوں نے اسلام کی سربلندی اور مسلمانان عالم کے مفاد میں سرانجام دیں۔پھر ایک اور اخبار المصرى “ ۲۶ جون ۱۹۵۲ء (بحوالہ: البشر کی ستمبر ۱۹۵۲ء جلد ۱۸ ص ۱۱۹) کی اشاعت میں ”اے کا فر ! خدا تیرے نام کی عزت بلند کرے“ کے زیر عنوان لکھتا ہے: مفتی نے ظفر اللہ کو کافر و بے دین قرار دیا ہے۔آؤ سب مل کر چوہدری محمد ظفر اللہ خان پر سلام بھیجیں۔ظفر اللہ خان کافر کے کیا کہنے ان جیسے 66 اور بڑے بڑے دسیوں کا فروں کی ہمیں ضرورت ہے۔مصر ہی کے ایک اور اخبار الزمان اپنی اشاعت میں ۲۵ جون ۱۹۵۲ء ( بحوالہ البشریٰ ستمبر ۱۹۵۲ءجلد ۱۸ صفحہ: ۱۲۵) میں لکھتا ہے: اخبار اليوم ۲۶ جولائی ۱۹۵۲ء میں رقم طراز ہے: وہ شخص جو استعماریت کا بڑی قوت ، بلاغت اور صدق بیانی سے مقابلہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ بھی جس کی زبان اور دل پر حق جاری کرتا ہے وہ بھی اگر کافر قرار دیا جاسکتا ہے تو نیک لوگوں کی اکثریت ایسے کافر بن جانے کی خواہش کرے گی۔(بحوالہ رسالہ البشری جلد ۱۸ شماره ستمبر ۱۹۵۲، صفحه ۱۳۲) اخبار بیروت المساء “ نے لکھا: 66