خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 234
خطبات طاہر جلدم 234 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۸۵ء مرد میدان ثابت ہوا۔اس نے فلسطین کے بارہ میں عربوں کے حقوق کے دفاع میں خدا کی طرف سے ودیعت کی گئی قدرت علی الخطاب اور قانون و سیاست میں قابلیت کے ہر جو ہر کو آزمایا۔اس کے کلام کی نبض حقیقی اسلامی روح کے ساتھ چلتی تھی۔ان دنوں جب کہ مسئلہ فلسطین ابھی تازہ تھا اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اس عظیم جد و جہد میں مصروف تھے جو کہ ایک تاریخی حیثیت کی حامل تھی ، عرب لیگ میں ایک بڑی مکروہ کوشش چوہدری صاحب کو عالم اسلام سے باہر نکالنے اور ان کی خدمات سے عالم اسلام کو محروم کرنے کی ہوئی۔شاہ فاروق جو استعماری طاقتوں کے ایجنٹ کے طور پر معروف ہیں اور جن کا بعد میں تختہ الٹ دیا گیا تھا، ان کے ایماء پر فلسطین کے مفتی نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور جماعت احمدیہ کے خلاف ایک بڑا سا فتویٰ دے دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تا کہ عالم اسلام کی خدمات کرنے والا جو بطل جلیل ہے اس سے عالم اسلام محروم رہ جائے۔چنانچہ جب یہ فتویٰ شائع ہوا اس وقت اگر چہ وہ دور گزر چکا تھا لیکن چونکہ چوہدری صاحب کی خدمات کی یاد بھی تازہ تھی اس لئے جنرل عبدالرحمن عزام پاشا جو عرب لیگ کے سیکرٹری تھے انہوں نے اس جریدہ کو جس میں وہ فتویٰ چھپا تھا مخاطب میں حیران ہوں کہ آپ نے قادیانیوں یا چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب وزیر خارجہ پاکستان کے متعلق مفتی کی رائے کو ایک موثر مذہبی فتویٰ خیال کیا ہے۔پھر لکھتے ہیں : اگر یہ اصول مان لیا جائے تو پھر بنی نوع انسان کے عقائد، ان کی عزت و وقار اور ان کا سارا مستقبل محض چند علماء کے خیالات و آراء کے رحم و کرم پر آ رہے گا۔پھر آگے لکھتے ہیں : " ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ظفر اللہ خان اپنے قول اور اپنے کردار