خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 233 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 233

خطبات طاہر جلدم 233 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۸۵ء مجھے پورا یقین ہے کہ جب تک احمدی لوگ مسلمانوں کی جماعت میں اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔جن سے استعماری طاقتوں کی پیدا کردہ حکومت اسرائیل کو ختم کرنے میں مدد ملے سکے تب تک استعماری طاقتیں بعض لوگوں اور فرقوں کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں گی کہ وہ احمدیوں کے خلاف اس قسم کی نفرت انگیزی اور نکتہ چینی کرتے رہیں تا کہ مسلمانوں میں اتحاد نہ ہو سکے۔(اخبار الانباء (بغداد) مورخه ۲۱ ستمبر ۱۹۵۴ء بحوالہ مجلة ” التقوی“ ستمبر اکتوبر ۱۹۸۹ء) الغرض حضرت المصلح الموعود کے دوٹر یکٹ شائع ہوئے اور ان کا اتنا حیرت انگیز اثر پڑا کہ بڑی بڑی استعماری طاقتیں کانپ گئیں اور سفارت خانوں کو ان کے مراکز سے ہدایتیں ملنے لگیں کہ اخباروں کو پیسے دو اور ان سے تعلقات قائم کرو اور جس طرح بھی ہو احمدیوں کے خلاف ایک تحریک چلاؤ۔جہاں تک چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی ذات کا تعلق ہے ان کے متعلق یہ الزام کہ گویا آپ نے فلسطین کے مفاد کے خلاف ایسی تقریریں کیں جن کے نتیجہ میں مفاد فلسطین سبو تا ثر ہو گیا، حد درجہ بے حیائی پر مبنی ہے۔عجیب منطق ہے کہ ساری عرب دنیا کو تو اس بات کا علم نہیں لیکن پاکستان کے ملاؤں کو اس بات کا پتہ لگ گیا۔جن عربوں پر گزر رہی تھی اور جن کے مقاصد کی خاطر چوہدری صاحب دن رات ایک کئے ہوئے تھے اور اپنی جان ہلکان کر رہے تھے، اپنی تمام خداداد طاقتوں کو استعمال میں لا رہے تھے ان عربوں کو تو اس بات کا علم نہیں ہوالیکن پاکستان کے احراریوں کو پتہ چل گیا ، جماعت اسلامی کو علم ہو گیا اور موجودہ حکومت پاکستان کو پتہ چل گیا کہ اصل واقعہ کیا تھا ! چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی خدمات کے بارے میں عرب دنیا کے جو خیالات تھے نہ صرف اس وقت انہیں علم تھا بلکہ آج تک جبکہ احمدیت کی مخالفت زوروں پر ہے انہیں وہ خدمات یاد ہیں اور آج بھی بعض حق پرست ایسے ہیں جو ان خدمات کو تسلیم کرنے میں باک نہیں رکھتے۔چنانچہ عربوں کی زبانی سنئے۔عبدالحمید الکاتب رسالہ 'العربی‘ماہ جون ۱۹۸۳ء کے شمارہ میں ایک مضمون میں لکھتے ہیں: محمد ظفر اللہ خان ہی وہ شخص ہے کہ جو فلسطین کے حق کے دفاع میں