خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 232 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 232

خطبات طاہر جلدم 232 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۸۵ء نکتہ چینی کرنے کے لئے کھڑے ہو جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے اس امر کی پوری پوری اطلاع ہے کہ در حقیقت یہ سب کا رروائی استعماری طاقتیں کروا رہی ہیں کیونکہ فلسطین کی گزشتہ جنگ کے ایام میں ۱۹۴۸ء میں استعماری طاقتوں نے خود مجھ کو اس معاملہ میں آلہ کار بنانے کی کوشش کی تھی۔ان دنوں میں ایک ظرافتی پرچے کا ایڈیٹر تھا اور اس کا انداز حکومت کے خلاف نکتہ چینی کا انداز تھا۔چنانچہ انہی دنوں مجھے ایک غیر ملکی حکومت کے ذمہ دار نمائندہ مقیم بغداد نے ملاقات کے لئے بلایا اور کچھ چاپلوسی کے طور پر میرے انداز نکتہ چینی کی تعریف کرنے کے بعد مجھے کہا کہ آپ اپنے اخبار میں قادیانی جماعت کے خلاف زیادہ سے زیادہ دل آزار طریق پر نکتہ چینی جاری کریں کیونکہ یہ جماعت دین سے خارج ہے۔یعنی ایک استعماری طاقت کو اسلام کی اس طرح فکر لاحق ہوگئی کہ ایک ایڈیٹر صاحب کو بلا کر کہتے ہیں کہ دل آزار طریق پر نکتہ چینی جاری کریں کیونکہ یہ جماعت دین سے خارج ہے۔پھر لکھتے ہیں : یہ ان دنوں کی بات ہے جب ۱۹۴۸ء میں ارض مقدسہ کا ایک حصہ کاٹ کر صیہونی حکومت کے سپر د کر دیا گیا تھا اور اسرائیلی سلطنت قائم ہوئی تھی اور میرا خیال ہے کہ مذکورہ بالا سفارت خانہ کا یہ اقدام در حقیقت ان دوٹر یکٹوں کا عملی جواب تھا جو تقسیم فلسطین کے موقع پر اسی سال جماعت احمدیہ نے شائع در و کئے تھے۔ایک ٹریکٹ کا عنوان ”هيئَةُ الْأُمَمِ المُتَّحِدَةِ وَقَرَارُ تَقْسِيمِ فَلَسْطِینَ “ تھا جس میں مغربی استعماری طاقتوں اور صیہونیوں کی ان سازشوں کا انکشاف کیا گیا تھا جن میں فلسطینی بندرگاہوں کے یہودیوں کو سپر د کر دینے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔دوسرا ٹریکٹ اَلْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةً کے عنوان سے شائع ہوا تھا جس میں مسلمانوں کو کامل اتحاد اور اتفاق رکھنے کی ترغیب دی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔یہ وہ واقعہ ہے جس کا مجھے ان دنوں ذاتی طور پر علم ہوا تھا اور