خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 231 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 231

خطبات طاہر جلد۴ 231 خطبه جمعه ۱۵ / مارچ ۱۹۸۵ء یه دردمندانه انتباه حقائق پر غور کریں تو بالکل برعکس صورت نظر آتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جب تقسیم فلسطین کا ظالمانہ فیصلہ ہوا تو اس سے پہلے وہ کون سی آواز تھی جس نے سارے عالم کو خبر دار اور متنبہ کیا تھا اور اور جس سے عرب دنیا میں بھی اور عرب سے باہر بھی ایک تہلکہ مچ گیا تھا۔ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی آواز تھی۔ آپ نے دل ہلا دینے والا ایک پمفلٹ لکھ کر کثرت سے شائع کیا جس میں مسلمانوں کو متنبہ کیا اور بتایا کہ تم اس گمان میں نہ رہو کہ آج مغرب تمہارا دشمن ہے تو مشرق تمہارا دوست ہوگا یا مشرق تمہارا دشمن ہے تو مغرب تمہارا دوست ہوگا ۔ فرمایا میں تمہیں بتاتا ہوں کہ آج امریکہ بھی تمہارا دوست نہیں ہے اور روس بھی تمہارا دوست نہیں ۔ ان کے درمیان اسلام الا کے خلاف باہمی سازش ہو چکی ہے۔ یہ اپنی دشمنیاں اسلام سے دشمنی کی وجہ سے بھلا بیٹھے ہیں اور ایک ہو گئے ہیں۔ کیا تم میں غیرت نہیں ہے کیا تم میں اسلام کی ایسی محبت نہیں ہے کہ جس کی خاطر تم اپنی دشمنیوں کو بھلا کر ایک ہو جاؤ۔ یہ ایسا دل اور موثر مضمون تھا کہ اس نے مسلمانوں کو اس طرح جھنجھوڑ کر بیدار کیا کہ اس کی بازگشت مدتوں تک عرب دنیا میں سنائی دیتی رہی اور پھر جب یہ ظالمانہ فیصلہ ہو گیا تو آپ نے ایک اور مضمون لکھا اور اسے بھی بڑی کثرت سے شائع فرمایا جس میں اس امر پر روشنی ڈالی گئی تھی کہ اس فیصلہ کے بعد مسلمانوں کو کیا کیا اقدامات کرنے چاہئیں جو اس کھوئی ہوئی بازی کو دوبارہ جیتنے میں مدد دے سکیں ۔ اس وقت عرب دنیا کا جو حال تھا اور جس طرح وہ احمدیت کی ممنون احسان تھی وہ تو ایک لمبا مضمون ہے لیکن میں آپ کو صرف ایک اقتباس پڑھ کر سناتا ہوں جس سے نہ صرف عرب دنیا کے خیالات کا پتہ چلتا ہے بلکہ استعماری طاقتوں نے اس پر کیا رد عمل دکھایا اور حضرت مصلح موعود کی آواز کو کیا اہمیت دی اس کا ذکر بھی اس سے ملتا ہے۔ عراق کے ایک مشہور اور بزرگ صحافی الاستاذ علی الخیاط آفندی جن کا ایک مشہور و معروف اور موقر اخبار الانباء“ کے نام پر نکلتا ہے۔ آپ نے اپنے اخبار میں ایک تفصیلی مضمون لکھا جس میں سے ایک اقتباس میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں : وو ” یہ غیر ملکی حکومتیں ہمیشہ کوشش کرتی ہیں کہ مسلمانوں میں مختلف نعرے لگوا کر منافرت پیدا کی جائے اور بعض فرقے احمدیوں کی تکفیر اور ان پر