خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 230
خطبات طاہر جلد۴ 230 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۸۵ء آنحضرت ﷺ کی ذاتی تبلیغ سے مسلمان ہوا اور پھر آپ نے ان کے ذریعہ پیغام بھجوا کر دوسرے یہود کو بھی اکٹھا کیا اور انہیں تبلیغ کی۔الغرض آنحضرت ﷺ کی تمام زندگی میں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں الله ملتا کہ حضور اکرم ﷺ نے یہود کو تبلیغ کرنے سے منع فرمایا ہو یا خودر کے ہوں یا ان سے حسن سلوک کرنے سے منع فرمایا ہو یا خود رُک گئے ہوں۔چنانچہ ایک دفعہ ایک یہودی ماں نے اپنے یہودی بچے کی وفات کے وقت آنحضرت علی کی خدمت میں بچے کا یہ پیغام بھیجا کہ میری جان نکل رہی ہے اور میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔آپ اسی وقت اٹھ کر اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور مرتے وقت اس کو تبلیغ فرمائی اور فرمایا کہ کیا تمہارے لیے یہ بہتر نہیں ہے کہ مسلمان ہو کر جان دو۔اس نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ! میرے لئے یہی بہتر ہے اور اس طرح اس نے مسلمان ہونے کی حالت میں جان دے دی۔یہ ہے اسوہ محمد مصطفی ع ، جس کی ہم اتباع کر رہے ہیں مگر ہمارے مخالف ہمیں اس سے روکنے میں کوشاں ہیں۔پھر ایک اور واقعہ اس طرح ہے کہ ایک جنازہ گزر رہا تھا۔حضرت اقدس محمد مصطفی علی اٹھ کر کھڑے ہو گئے تو اچانک چاروں طرف سے آواز میں آئیں کہ یا رسول اللہ ! یہ تو یہودیہ کا جنازہ ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا کیا اس میں مرنے سے پہلے جان نہیں تھی ؟ اور پھر اس قسم کے کلمات فرمائے جس سے شرف انسانی قائم ہوتا ہے۔فرمایا دکھ سب کے برابر ہوا کرتے ہیں۔آنحضرت تو جن کی خاطر کائنات کو پیدا کیا گیا) کسی یہودیہ کا جنازہ گزرنے پر بھی اٹھ کھڑے ہوتے تھے مگر آج یہ نفرتوں کی تعلیم دینے والے، اسلام اور حضرت محمد مصطفی علیہ کے پاک اسوہ پر دردناک الزامات لگانے والے ہمیں یہ کہتے ہیں کہ تم اسوہ محمد کے پیچھے کیوں چل رہے ہو ہمارے اسوہ کے پیچھے کیوں نہیں چلتے۔میں انہیں یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ ہم تو کبھی کسی قیمت پر تمہارے اسوہ کو قبول نہیں کریں گے ، ہمارے سامنے ہمیشہ سے اور ہمیشہ کے لئے ایک ہی اسوہ ہے جو ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا اسوہ ہے اسی اسوہ پر ہم اب تک جئے ہیں اور اسی پر جئیں گے اور اسی پر جان دیں گے۔انشاء اللہ۔جہاں تک ان الزامات کا تعلق ہے کہ (نعوذ باللہ من ذالک) احمدی یہود کے ایجنٹ ہیں اور انہوں نے یہود کے مفاد میں کوششیں کی ہیں۔سو یہ ایک ایسا جھوٹا اور بے بنیادالزام ہے کہ جب آپ