خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 229
خطبات طاہر جلدم 229 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۸۵ء کی تلاوت کرتے ہیں۔وَهُمْ يَسْجُدُونَ اور وہ خدا کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں اللہ پر ایمان لاتے ہیں، یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور نیک باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور بھلائیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہیں۔وَ أُولَبِكَ مِنَ الصَّلِحِينَ اور یقیناً یہ لوگ صالحین میں سے ہیں۔وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ تُكْفَرُ وهُ اور وہ جو بھی بھلائی کی بات کرتے ہیں اس کی ناشکری نہیں کی جائے گی ، انہیں اس کی جزا سے محروم نہیں کیا جائے گاوَ اللهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ اور اللہ تعالیٰ متقیوں کو خوب جاننے والا ہے۔دنیا کی کسی کتاب میں اس قسم کی کوئی آیت آپ کبھی نہیں دیکھیں گے کہ اس میں مخالفین بلکہ اشد ترین مخالفین کو بھی اس رنگ میں نوازا گیا ہو اور ان کی خوبیوں کا اقرار ایسے پیارے انداز میں کیا گیا ہو کہ عقل حیران رہ جاتی ہے اور یہ بات ماننے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ ایسا کلام خدا تعالیٰ کے سواکسی اور کا نہیں ہوسکتا۔زیادہ آیات نہ سہی ، صرف یہ ایک ہی آیت آپ ساری دنیا کے مذاہب کے سامنے چیلنج کے طور پر پیش کر سکتے ہیں کہ اس قسم کی کوئی آیت اپنی کتابوں سے نکال کر تو دکھاؤ جس میں اتنا حوصلہ اور اتنی عظمت ہو۔خدا تعالیٰ کا کلام تو پہلے بھی نازل ہوتا رہا ہے مگر کسی بندہ کامل پر اس طرح صلى الله نازل نہیں ہوا جس طرح محمد مصطفی ﷺ پر نازل ہوا۔اس لئے یہ کلام جہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کی دلیل ہے وہاں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے عالی ظرف ہونے کی بھی دلیل ہے۔جیسا آپ چاہتے تھے،جیسا آپ کا دل تھا اور جیسا آپ کا غیروں کی طرف رجحان تھا ویسا ہی کلام آپ پر نازل کیا گیا۔مگر آج آنحضرت علی کی طرف منسوب ہونے والے ہمیں یہ طعنے دیتے ہیں کہ تم یہود کو تبلیغ کیوں کرتے ہو۔اسرائیل جا کر بھی تم تبلیغ سے باز نہیں آئے لا ز ما تم ان کے ایجنٹ ہو۔یہ کیسی جاہلانہ بات ہے۔انہیں قرآن کا علم ہے نہ سنت محمد مصطفی کا ، ورنہ ایسے غلط اور جاہلانہ بہتان نہ تراشتے۔قرآن کریم تو خیر امت کی دلیل یہ دے رہا ہے کہ تم اپنے تبلیغ کے فیض سے کسی قوم کو محروم نہیں رکھتے اور یہ فیض ایسا عام ہے کہ دشمنوں کو بھی یہ فیض دیتے ہو اس لئے اگر وہ پھر بھی ہدایت نہ پائیں تو ان کا اپنا قصور ہے تمہارا کوئی قصور نہیں۔اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ کا اسوہ ہمارے سامنے ہے۔دنیا میں سب سے پہلا یہودی حصین بن سلام جو مسلمان ہوا ( آنحضرت علی نے بعد میں ان کا نام عبد اللہ بن سلام رکھا ) وہ