خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 224
خطبات طاہر جلدم 224 خطبہ جمعہ ۸/ مارچ ۱۹۸۵ء ”ربوہ سے تل ابیب تک مخالفین سے کہا تھا کہ تم علماء ہو خدا کا خوف کرو۔تم کہتے ہو چھ سواحمدی اسرائیل کی فوج میں ملازم ہیں۔پہلے یہ بتاؤ کہ تمہیں یہود کے کس ایجنٹ نے یہ خبر دی ہے؟ تمہیں اس بات کا پتہ کہاں سے لگا ہے اور ان میں سے کسی ایک کا نام بتا دو۔میں نے کہا چھ سوکا نہ سہی ساٹھ کا ، ساٹھ کا نہیں تو چھ کا نام بتادو چھ کا نہیں بتا سکتے تو ایک احمدی کا نام بتادو جو پاکستان یا بیرون پاکستان کسی ملک کا احمدی ہو جس نے اسرائیل میں فوجی ملازمت کی ہے لیکن آج تک کوئی ایک نام بھی پیش نہیں کر سکے ، ہے ہی کوئی نہیں اور فرضی نام بتا نہیں سکتے کیونکہ بتائیں تو محلے کا نام اور پتہ بتا نا پڑے گا ،جگہ بتانی پڑے گی۔اس کے مطابق ہر آدمی دیکھ سکتا ہے کہ اس نام کا کوئی آدمی ہے یا نہیں۔یہ کوئی ریفرنڈم تو نہیں کہ فرضی نام بنا لو گے اور نہ صرف یہ بلکہ فوت شدہ لوگوں کے بھی ووٹ ڈلوا دو گے۔اگر اسرائیل کی فوج میں احمدی ملازم ہیں تو دکھانے پڑیں گے کہ وہ کون کون سے احمدی ہیں۔جہاں تک اسلام اور فلسطین کے مسلمانوں کے مفاد کے ساتھ جماعت احمدیہ کی وفا داری کا تعلق ہے یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں اور نہ یہ آج کی بات ہے۔تمہیں تو ہوش ہی نہیں تھا اور فلسطین کے نام کا بھی کچھ زیادہ علم نہ تھا جب جماعت احمد یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے فلسطین کے اسلامی مفادات کے ساتھ ایک گہرا تعلق رکھتی تھی۔جماعت احمدیہ کے خلفاء مسلمانان فلسطین کو ہر خطرہ کے وقت متنبہ کرتے تھے اور ان کو آگاہ رکھتے تھے اور ان کی ہر ممکن خدمت کے لئے جماعت احمدیہ کو پیش کیا کرتے تھے اور یہ تو پارٹیشن سے پہلے کے قصے چلے آرہے ہیں یہاں تک کہ تمہارے احراری اخباروں نے بھی ان باتوں کو تسلیم کیا ہوا ہے۔وہ اپنے مونہوں سے کہہ گئے ہیں اور اپنے قلم سے یہ بات لکھ گئے ہیں کہ : اہل اسلام اور عالم اسلام کے ساتھ جو محبت قادیان کے مرزا محمود احمد صاحب نے دکھائی ہے اس کی مثال بہت کم ملتی ہے “۔جواخبار جماعت احمدیہ کی مخالفت کے لئے وقف ہوں ان کی طرف سے اتنی نفرتوں کے باوجود جب حق کی آواز نکلتی ہے تب مزہ آتا ہے بات کا۔اس کو ثبوت کہتے ہیں۔چنانچہ اس کا ایک حوالہ میں پڑھ کر سنا دیتا ہوں۔مجلس احرار کا ایک اخبار ” زمزم“ ہوا کرتا تھا جو جماعت کی مخالفت کے لئے وقف تھا