خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 16
خطبات طاہر جلدم 16 خطبه جمعه ۴ /جنوری ۱۹۸۵ء اور سارے مستعد ہو کر کھڑے انتظار کر رہے تھے کہ کب جمعہ پر خلیفہ وقت آئیں اور پھر اذان کی آواز بلند ہو۔اتنا انہاک تھا ان کے چہروں پر کہ ماں کہتی ہے کہ میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے اتنی سنجیدگی تھی اتنا احترام تھا کہ میں حیران تھی کہ اللہ نے میرے بچوں کو کیا کر دیا ہے۔بیٹی گڑیوں سے کھیل رہی تھی ہمسایوں کی بچیوں کو بلا کے تین سال کی عمر کی بچی ہے چھوٹی سی ، اچانک اس کو کچھ خیال آیا اور اس نے کہا کہ ٹھہر جاؤ! اب ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کے ابتلاء دور کرے اور فتوحات نازل فرمائے اور ہمارا امام واپس آجائے اور اس چھوٹی سے بچی نے ہاتھ اُٹھائے دعا کے لئے اور ان ساری بچیوں نے دعائیں شروع کر دیں۔وہ عورت کہتی ہیں کہ میں حیران تھی کہ اس گھر میں کیا واقعہ ہو رہا ہے۔میں نے نہیں سکھایا ، نہ میرے خاوند نے سکھایا ، یہ آسمان سے ہی کچھ تربیت ہو رہی ہے اور کہتی ہیں کہ یہ مجھ سے برداشت نہیں ہوا پھر میں روتے روتے جاکے اپنے رب کے حضور سجدے میں گر گئی کہ اے اللہ ! تیری کیسی فضلوں کی بارش ہورہی ہے، ہم میں کہاں طاقت تھی کہ ہم اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کر سکیں ، ان کے دل میں تو کھس گیا ہے، تو بیٹھ گیا ہے ان کے سینوں میں اور تو اپنے فضل سے خود انکی تربیت کر رہا ہے۔پھر ایک احمدی بچے کا ایک عجیب واقعہ ہے اور اس کے ساتھ بھی ایک عجیب رحمت کا نشان وابستہ ہے۔ایک صاحب کہتے ہیں کہ مجھے محض احمدیت کی بناء پر گھر کے مالک نے نکلنے کا نوٹس دے دیا اور بہت منتیں کیں سمجھایا مگر وہ کسی طرح مانا نہیں اور جب گھر تلاش کئے تو کوئی گھر نہیں ملتا تھا۔تو ایک دن میں نے اپنے بچوں کو اکٹھا کیا اور ان سے کہا کہ دیکھو! ہمیں یہ کہتے ہیں کہ " تم احمدیت کو چھوڑ دو تو ہم تمہیں اچھے مکان دیں گے تمہیں محل عطا کریں گے اور اگر نہیں تو پھر جھونپڑوں میں جا کر رہو ، تمہارے لئے گھروں میں کوئی جگہ نہیں۔کہتے ہیں کہ میں بڑی سنجیدگی سے بچوں کو مخاطب کر کے ان سے پھر یہ سوال کیا کہ اب میں تم پر چھوڑتا ہوں کہ تم فیصلہ کرو کہ احمدیت کو چھوڑ کر اچھے محل چاہئیں یا تم میرے ساتھ اور اپنی ماں کے ساتھ جھونپڑیوں میں رہنا پسند کرو گے۔کہتے ہیں کہ ابھی منہ سے بات ختم نہیں ہوئی تھی کہ بچے چیخ اُٹھے کہ ہم جھونپڑیوں میں رہیں گے ، خدا کی قسم ہم جھونپڑیوں میں رہیں گے ، ہم احمدیت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔کہتے ہیں کہ اس وقت خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ایسا یقین پیدا کر دیا کہ میں ان کی ماں کے پاس گیا اور میں نے کہا کہ میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ