خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 220
خطبات طاہر جلد۴ 220 خطبہ جمعہ ۸/ مارچ ۱۹۸۵ء وجہ سے مسئلہ فلسطین تباہ ہوا، انہوں نے اس مسئلہ کو سبوتاژ کر دیا اور اگر چوہدری صاحب کی بجائے کوئی اور ہوتا تو پھر وہاں کا میابی ہو سکتی تھی۔گویا اسلامی مفاد کے ساتھ عمدا اور شرار تا غداری کی ہے اور دوسرا الزام یہ ہے کہ احمدی تو اسرائیل کے وفادار ہیں۔چھ سو احمدی اس وقت اسرائیل کی فوج میں ان کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں اور وہ جو چھ سو ہیں وہ گزشتہ دس پندرہ سال سے چھ سو کے چھ سو ہی چلے آرہے ہیں کسی لڑائی میں نہ وہ مرتے ہیں نہ دنیا سے کوچ کرتے ہیں اور نہ وہ کسی ذریعہ سے بڑھتے ہیں بس وہ ویسے کے ویسے چلے آرہے ہیں اور اسی ضمن میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چونکہ وہاں احمد یہ مشن ہے اس لئے احمدی لازماً اسرائیل کے ایجنٹ ہیں۔یہ ہے خلاصہ احمدیت کے خلاف ان اعتراضات کا جو اسرائیل کا ایجنٹ ہونے کے بارہ میں کئے جاتے ہیں۔اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہئے کہ مشن کس کو کہتے ہیں۔مخالفین احمدیت کو اس بات کا بھی پتہ نہیں کہ مشن کس چیز کا نام ہے۔انہوں نے ” جماعت احمدیہ کے تبلیغی مشن نامی کتاب میں سے لفظ مشن پڑھا ہے اور اعتراض کرنا شروع کر دیا ہے۔وہ یا خود دھوکے میں ہیں یا دنیا کو دھوکا دے رہے ہیں کہ گویا جس طرح حکومتوں کے قائم کردہ سیاسی مشن ہوتے ہیں اسی قسم کا کوئی مشن ہے۔جب کہ عوام الناس بیچاروں کو تو پتہ ہی نہیں لگتا کہ بات کیا ہو رہی ہے سادہ لوحی میں وہ بات سنتے ہیں اور حیرت سے دیکھتے ہیں کہ سارے عالم اسلام نے اسرائیل سے قطع تعلق کر رکھا ہے مگر احمدیوں کا وہاں مشن قائم ہے۔اس طرح گویا با قاعدہ سفارتی تعلقات ہیں۔بھئی جن کی حکومت ہی کوئی نہیں ان کے سفارتی تعلقات کیسے ہو سکتے ہیں۔جماعت احمدیہ کے اس مشن سے مراد تبلیغی مشن ہے، مشن سے مراد اسلام کی طرف سے یہودیت کے خلاف حملہ آور مشن ہے۔یہ ایک ایسا مشن ہے جو بڑی جرأت اور دلیری کے ساتھ باطل کے خلاف ایک جہاد کر رہا ہے اور یہودیوں کو مسلمان بنانے کا کام کر رہا ہے۔تم کیوں خدا سے یہ دعا نہیں مانگتے کہ تمہیں بھی توفیق ملے کہ ایسے مشن بناؤ۔پس معترضین کو کوئی علم نہیں، کچھ پتہ نہیں موقع کونسا ہے ، کس رنگ میں بات ہو رہی ہے، کیا کہا جارہا ہے، بس ایک عوامی ہلڑ بازی کا پیشہ ہے جسے اختیار کرنے والوں نے اختیار کر رکھا ہے۔بعض اصطلاحیں گھڑی ہوئی ہیں ان کو عوام الناس میں پھیلاتے رہتے ہیں۔بعض جھوٹ تراش لئے ہیں مسلمان عوام بیچارے بالکل سادگی میں ان پر یقین کر لیتے ہیں اور مجھے ایک بات کی خوشی بھی ہوتی ہے کیونکہ اس