خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 210 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 210

خطبات طاہر جلدم 210 خطبہ جمعہ ۸/ مارچ ۱۹۸۵ء کے مسلمانوں پر خدا نے نظر کی تو صرف ایک مہاتما گاندھی نظر آئے جو خلافت اسلامیہ کو بچانے کی طاقت اور ہمت رکھتے تھے۔فرماتے ہیں خدا تعالیٰ نے جو عالم الغیب و الشهادة ہے گاندھی جی کو یہ مرتبہ پہچان کر دیا ہے۔یہی مولوی ظفر علی خان صاحب ہندو مسلم اتحاد کے متعلق کہتے ہیں: پانچ سال پہلے اس اتحاد کا وہم و گمان بھی نہ تھا ہندو اور مسلمانوں کو گاندھی ، لالہ لاجپت رائے ، مالوی جی ، موتی لال نہرو کے متعلق خیال ہے کہ یہ ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے مگر کیا یہ پہلے نہ تھے، کیا یہ قوت ان میں پہلے موجود نہ تھی۔میں (یعنی ظفر علی خان ) کہتا ہوں کہ یہ آسمانی قوت ہے اب ہندو مسلمانوں میں تفرقہ نہیں پڑ سکتا۔ہندوؤں نے ،مہاتما گاندھی نے مسلمانوں پر جو احسان کئے ان کا عوض ہم دے نہیں سکتے“۔یعنی مسلمانوں پر ہندوؤں اور مہاتما گاندھی نے جو احسان کئے ہیں مولوی ظفر علی خان صاحب کہتے ہیں ہم ان کا بدلہ نہیں دے سکتے ہمارے پاس زر نہیں ہے ، جان ہے جب چاہیں حاضر ہے۔یہ ہیں وہ لوگ جو پاکستان کے احمدیوں پر ہندوؤں کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ویسے تو جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ ہر ملک کا احمدی اس ملک کا وفادار ہے اور ہم اس بات کا بلا جھجک یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہندوستان میں بسنے والے والے احمدی کا یہ فرض ہے اور قرآن اس کا یہ فرض مقرر کرتا ہے کہ اپنے وطن کے وفادار رہو ، جس ملک کا نمک کھاتے ہو اس سے بے وفائی نہ کرو۔میں ان کی بات نہیں کر رہا نہ ہمارے مخالفین ان کی بات کر رہے ہیں دراصل الزام یہ ہے کہ گویا پاکستان میں بسنے والے احمدی ہندوؤں کے ایجنٹ اور ہندوستان کے وفادار ہیں اور یہ کہ پاکستان سے ان کا کوئی تعلق نہیں یہ بالکل جھوٹ ہے جو لوگ ہندوؤں کے وفادار ہیں اور ہندوستان کے ایجنٹ ہیں وہ اپنی ہی تحریروں سے وفادار اور ایجنٹ ظاہر ہورہے ہیں۔اب آئیے دیکھیں جماعت اسلامی کی اسلام دوستی اور اسلامی ممالک کے ساتھ ان کی محبت اور تعلق۔تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جب تک عرب ریاستوں میں تیل نہیں نکلا اس وقت تک ان کو پتہ ہی نہیں لگا کہ اسلام کہاں رہتا ہے اور عرب ممالک کا اسلام سے تعلق کیا ہے اس سے یہ نا آشنا تھے لیکن جب تیل کی دولت کی عرب میں ریل پیل ہونے لگی تو اس وقت ان کی نظریں اٹھیں اور ان کو