خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 211
خطبات طاہر جلدم 211 خطبہ جمعہ ۸/ مارچ ۱۹۸۵ء معلوم ہوا کہ یہاں تو خدا رہتا ہے، یہاں تو خدا والے لوگ رہتے ہیں۔اس سے پہلے کیا تھے یہ مولوی مودودی کی زبانی سنئے جو موجودہ پاکستانی حکومت (Regime) کے بزرگ آباء واجداد میں سے ہیں۔جن کے متعلق دنیا تعریف کرتی ہے کہ وہ بڑے مخلص تھے انہوں نے اہل عرب کی بڑی خدمت کی ہے اور اہل اسلام کے لئے بھی انہوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں مگر انہی مولوی مودودی کو وہ عرب کیسے نظر آرہے تھے۔فرماتے ہیں: حکومت حجاز ( یعنی شاہ عبدالعزیز اوران کے بعد ان کے شہزادوں) کی بدولت سرزمین عرب پر جاہلیت مسلط ہے اور حرم کعبہ کے منتظم بنارس اور ہر دوار کے مہنت بن گئے ہیں“۔( خطبات سیدابوالاعلی مودودی طبع چہارم صفحه ۲۰۵-۲۰۶) یہ لمبی تحریر ہے اس کو پڑھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے یہ ایک بہت ہی گہرے عناد کی مظہر ہے ایسا لگتا ہے ایک انسان مدتوں سے بیٹھا بس گھول رہا ہے اور اب اس کو ز ہر تھوکنے کا موقع ملا ہے۔کوئی آدمی یہ خیال کر سکتا ہے کہ باقی مسلمانوں سے ان کو ہمدردی ہوگی ، حق پرست آدمی ہیں انہوں نے وہی کچھ کہہ دیا جو ان کو نظر آیا لیکن میں آپ کو بتاتا ہوں کہ باقی عالم اسلام کے متعلق ان کے خیالات کیا تھے اور ان کو شاید انہوں نے تبدیل بھی نہیں کیا، فرماتے ہیں: ایک حقیقی مسلمان ہونے کی حیثیت سے جب میں دنیا پر نگاہ ڈالتا ہوں تو مجھے اس امر پر اظہار مسرت کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ترکی پر ترک، ایران پر ایرانی، افغانستان پر افغان حکمران ہیں۔سیاسی کشمکش حصہ سوم با رسوم ورسائل و مسائل صفحه ۷۸ ) مولوی صاحب کے نزدیک اظہار مسرت تو تب ہوتا اگر وہاں ہندو حکمران ہوتے ، روسی ہوتے یا انگریز آکر وہاں لوگوں پر حکومت کرتے اگر ایسا ہوتا تو مولانا کو اظہار مسرت کی کوئی وجہ نظر آجاتی لیکن فرماتے ہیں میں کیسے خوشی کا اظہار کروں مجھے تو ترکی پر ترک حکمران نظر آ رہے ہیں افغانستان پر میں افغان حکمران دیکھ رہا ہوں اور اسی طرح ایران پر ایرانی حاکم بنے بیٹھے ہیں ، نہ وہ میری حکومت قبول کرتے ہیں نہ کسی اور ملک کی قبول کرتے ہیں میں کیسے خوش ہوسکتا ہوں اور پھر خود