خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 209

خطبات طاہر جلد۴ نہیں کیا جاسکتا۔209 خطبہ جمعہ ۸/ مارچ ۱۹۸۵ء مولوی ظفر علی خان صاحب مدیر ”زمیندار اخبار لاہور، احرار کے صف اول کے مجاہد تھے اگر چہ بعد میں تو یہ بھی کی لیکن وہ بہت دیر کے بعد ہوئی۔ایک لمبا عرصہ انہوں نے احرار کی وکالت کا حق ادا کیا اور اپنے اخبار میں احرار کو بہت اچھالا۔مولوی ظفر علی خان صاحب نے ہندوؤں سے مسلمانوں کے تعلقات اور مہاتما گاندھی کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار ایک نظم میں کیا ہے۔یہ تحریک خلافت کے زمانہ کی بات ہے یعنی جن دنوں یہ تحریک چلی تھی کہ انگریزوں نے خلافت پر حملہ کیا ہے اس لئے ہم ترک موالات کریں گئے انگریز سے تعلقات توڑ کر افغانستان چلے جائیں گے۔چنانچہ مسلمانوں کی خلافت کی حفاظت کا یہ جو اعلان ہوا ہے اس کے متعلق احرار کہتے ہیں کہ یہ اعلان گاندھی جی نے کیا تھا۔گاندھی نے آج جنگ کا اعلان کردیا باطل سے حق کو دست و گریبان کر دیا ہندوستاں میں ایک نئی روح پھونک کر آزادی حیات کا سامان کر دیا تن من کیا شار خلافت کے نام پر سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کر دیا یہ ہیں ان کے پیرو مرشد، یہ ہیں ان کی خلافت کی حفاظت کرنے والے، یہ ہیں ان کے رشتے اور آج بڑھ بڑھ کر باتیں کر رہے ہیں جماعت احمدیہ کے خلاف۔کہتے ہیں جناب گاندھی صاحب نے خلافت پر اپنا تن من نثار کر دیا ہے۔پھر سنئے کہتے ہیں: پروردگار نے کہ وہ ہے منزلت شناس گاندھی کو بھی یہ مرتبہ پہچان کر دیا یعنی یہ کسی انسان کی بات نہیں کہ غلطی ہو گئی ہو۔فرماتے ہیں حضرت گاندھی جی کو خدا تعالیٰ نے پہچان کر مرتبہ عطا فرمایا ہے۔گویا اس وقت فرزندان اسلام میں سے اور مسلمان ماؤں کی کوکھ سے پیدا ہونے والے مسلمانوں میں سے ایک بھی نہیں تھا جو خلافت کی حفاظت کے لئے کھڑا ہوتا۔کل عالم