خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 197
خطبات طاہر جلد ۴ 197 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۸۵ء کانگریس اور ان دوسری جماعتوں سے مل کر کام کرتے تھے جو قائد اعظم کی جدو جہد کے خلاف صف آراء ہورہی تھیں ۔۔۔۔۔۔اس جماعت نے دوبارہ اب تک پاکستان کے قیام کو دل سے گوارا نہیں کیا“ احرار کے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے انکوائری رپورٹ کہتی ہے: ان لوگوں کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کریں اور پاکستان کے استحکام کے متعلق عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچائیں۔ اس شورش کا یہ مقصد بالکل واضح ہے کہ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر فرقہ وارانہ اختلافات کی آگ کو بھڑ کا یا جائے اور مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کر دیا جائے۔ ( انکوائری رپورٹ صفحہ: ۱۵۰) پھر اسی رپورٹ کے صفحہ ۲۷۸ پر احرار کا ذکر ان الفاظ میں ہوتا ہے: احرار کے رویے کے متعلق ہم نرم الفاظ استعمال کرنے سے قاصر ہیں ۔ ان کا طرز عمل بطور خاص مکروہ اور قابل نفرین تھا اس لئے کہ انہوں نے ایک دنیاوی مقصد کے لئے ایک مذہبی مسئلہ کو استعمال کر کے اس مسئلہ کی تو ہین کی۔ پھر اسی رپورٹ کے صفحہ ۲۷۵ پر احراری لیڈر مولوی محمد علی جالندھری کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وو مولوی محمد علی جالندھری نے ۱۵ فروری ۱۹۵۳ء کو لاہور میں تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ احرار پاکستان کے مخالف تھے ۔۔۔۔۔۔اس مقرر نے تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد بھی پاکستان کے لئے پلیدستان کا لفظ استعمال کیا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عطاء اللہ شاہ بخاری نے ۔۔۔۔۔۔ ایک تقریر میں کہا، پاکستان ایک بازاری عورت ہے جس کو احرار نے مجبوراً قبول کیا ہے۔“ 66 یہ ہیں مجاہدین اسلام کے کارنامے لیکن ان کارناموں کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ انکی جد و جہد اب ایک نازک دور میں داخل ہو چکی ہے ۔ احراریوں نے پاکستان کے خلاف مختلف وقتوں