خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 196
خطبات طاہر جلدم 196 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء موتی لعل کی گاڑی اپنے ہاتھ سے کھینچی۔ایک لاکھ ہندو اور مسلمان نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔یہ وہ وقت تھا جب کہ نہرورپورٹ کی وجہ سے پنجاب میں پنڈت موتی لعل نہرو کی ہندوؤں ،سکھوں اور مسلمانوں میں سخت مخالفت ہو رہی تھی لیکن رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کی اس تدبیر سیاست نے ہوا کا رُخ پلٹ دیا۔دیکھئے احرار نے کیسے کیسے عظیم الشان مجاہدین اسلام پیدا کئے ہیں ! صرف یہی نہیں اس زمانہ میں مشرقی بنگال میں کیا ہو رہا تھا اس کی داستان اگر آپ رسالہ ” طلوع اسلام ( کراچی ) ۲۶ / مارچ ۱۹۵۵ء صفحہ اسے پڑھ کر دیکھیں تو حیرت ہوگی کہ یہ لوگ اس وقت وہاں کیا کر رہے تھے۔چنانچہ لکھا ہے کہ: ۱۹۴۶ء کے الیکشن کا اعلان ہو گیا جو پاکستان کے نام پر لڑا جارہا تھا۔الیکشن کے سلسلہ میں کلکتہ اور بھارت کے دوسرے مقامات کے بہت سے مسلم لیگی لیڈروں نے مشرقی بنگال کا دورہ کیا اور لوگوں پر پاکستان کی اہمیت واضح کرنی شروع کر دی۔مسلم لیگی لیڈروں کا اثر اور عوام کو پاکستان کی حمایت پر آمادہ دیکھ کر ہندوؤں نے اپنے اجیر مولویوں کو مسلم لیگی لیڈروں کا زور توڑنے کے لئے بھیجا۔روح جعفر کے ان تازہ پیکروں نے اپنی تقریروں میں مسلم لیگی لیڈروں پر کفر کے فتوے لگائے۔پاکستان کی تحریک کو انگریزوں کا خود کاشتہ شگوفہ بتایا اور ہر ممکن کوشش کی کہ یہ تحریک مقبول عام نہ ہونے پائے“۔اب میں احرار سے متعلق جسٹس منیر اور جسٹس کیانی کی رپورٹ میں سے ایک دو اقتباسات پڑھ کر سناتا ہوں جن سے آپ کو یہ اندازہ ہوگا کہ انہوں نے جماعت اسلامی کی طرح کوئی تو بہ نہیں کی اور پاکستان کے تصور کو نہ پہلے قبول کیا تھا نہ بعد میں بلکہ لوگوں کو پہلے کی طرح دھو کہ اور فریب دیتے رہے اور اپنے ناپاک ارادوں کی تکمیل کے لئے اسلام کا مقدس نام استعمال کرتے ہیں۔چنانچہ جسٹس منیر ، کیانی رپورٹ صفحہ ۱۴۹۔۱۵۰ میں درج ہے: ان ( احراریوں) کے ماضی سے ظاہر ہے کہ وہ تقسیم سے پیشتر