خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 195
خطبات طاہر جلدم 195 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء الہام کس کی طرف سے ہوتا ہے اور کیا ہوتا ہے اس کا سارا را ز تو احراریوں کو معلوم ہے۔وہ الہام اللہ کی طرف سے تھا یا قصر بکنگھم میں ہوا دونوں جگہ ان کے پہرے دار موجود ہیں اس لئے انہیں فوراً پتہ لگ جاتا ہے چنانچہ یہ الہام پاکستان جس کے متعلق آج کہتے ہیں کہ علامہ اقبال کے دل پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا تھا کل تک اس کے متعلق یہ کہ رہے تھے کہ یہ قصر بکنگھم کا الہام ہے۔مولانا ظفر علی خان صاحب چمنستان میں ایک مشہور و معروف احراری لیڈر مولوی حبیب الرحمان صاحب ( جو اس زمانہ میں صدر مجلس احرار تھے ) کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کے مقابل پر ہندوؤں کی کیسی خدمات کیں اور ہندو راہنماؤں کو مسلمانوں میں دوبارہ ہر دلعزیز بنانے کے لئے کیسے حیرت انگیز کارنامے سرانجام دئے ان میں سے ایک کارنامہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: میرٹھ میں مولوی حبیب الرحمن لدھیانوی صدر مجلس احرار اس قدر جوش میں آئے کہ دانت پیستے جاتے تھے ، غصہ میں آکر ہونٹ چباتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ دس ہزار جینا اور شوکت اور ظفر جواہر لال نہرو کی جوتی کی نوک پر قربان کئے جاسکتے ہیں۔یہ تھا ان کا جذبہ جہاد اور جوش و خروش۔پھر مولوی حبیب الرحمن صاحب جب عمل کے میدان میں کو دے تو اس وقت چشم فلک نے کیا کیا نظارے دیکھے، وہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ اقتباس کتاب ”رئیس الاحرار ، صفحہ ۷۴، ۷۵ سے لیا گیا ہے لکھا ہے کہ: وو (چمنستان صفحه: ۱۶۵) ۱۹۲۸ء میں آل انڈیا مسلم کشمیر کا نفرنس لدھیانہ میں ہوئی اس کی صدارت کے لئے مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نے خواجہ محمد یوسف صاحب کے ذریعہ پنڈت موتی لعل نہرو کو کشمیر کا نفرنس کا صدر بنایا ( یہ بات سننے سے تعلق رکھتی ہے کہ پنڈت موتی لعل جو پنڈت جواہر لعل نہرو کے والد تھے کو کانفرنس کا صدر بنایا ) پھر لکھتے ہیں : کانفرنس میں بڑے بڑے مسلمان کشمیری تاجروں نے پنڈت