خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 192 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 192

خطبات طاہر جلدم 192 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء آتا ہے تو سیدنا مسیح کا یہ قول کہ جبہ جاتا ہے تو گر یہ بھی چھوڑ دینے پر تیار ہو جاؤ اور آج ہمارے متعلق یہ باتیں کرتے ہو کہ ہم جہاد کے خلاف ہیں۔پھر فرماتے ہیں: جو لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر مسلم اکثریت کے علاقے ہندو اکثریت کے تسلط سے آزاد ہو جائیں اور یہاں جمہوری نظام قائم ہو جائے تو اس طرح حکومت الہی قائم ہو جائے گی ، ان کا گمان غلط ہے۔دراصل اس کے نتیجہ میں جو کچھ حاصل ہوگا وہ صرف مسلمانوں کی کافرانہ حکومت ہوگی ( آج جس حکومت کی تائید میں یہ کہتے ہیں کہ فرمان الہی جاری ہو رہا ہے کل تک وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ) جو کچھ بھی حاصل ہو گا وہ صرف مسلمانوں کی کافرانہ حکومت ہوگی۔اس کا نام حکومت الہی رکھنا اس پاک نام کو ذلیل کرنا ہے“۔( مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوئم صفحہ : ۱۷۷) ” نوائے وقت“ کے بانی ایڈیٹر حمید نظامی صاحب نے جماعت اسلامی سے متعلق سچ کہا اور اس خیال کا بڑے زور سے اظہار کیا کہ : ” ہم الزام لگاتے ہیں کہ قائد اعظم اور تحریک پاکستان کے خلاف مولانا مودودی کا بغض آج بھی اسی طرح قائم ہے۔ہم الزام لگاتے ہیں کہ مولانا کی تحریک ہرگز ایک اسلامی اور دینی تحریک نہیں۔وہ حسن بن صباح کی طرح سیاسی ڈھونگ رچائے ہوئے ہیں اور ان کا مقصد دین کی سر بلندی کی بجائے سیاسی اقتدار کا حصول ہے (نوائے وقت ۱۵ / جولائی ۱۹۵۵ء صفحہ ۳۰) جب مولوی مودودی صاحب کی اپنی تحریروں سے یہ باتیں ثابت ہیں تو پھر اس الزام کورد کرنے کی کوئی گنجائش تو نظر نہیں آتی لیکن صرف اسی پر انحصار نہیں بلکہ ان معاملات پر غور کرنے کے لئے کہ کون پاکستان کا سجن اور کون دشمن ، کون سگا اور کون سوتیلا ہے۔حکومت پاکستان نے ۱۹۵۳ء میں اینٹی احمدیہ تحریک پر ایک عدالت قائم کی جس کے منصفین میں ایک جسٹس منیر تھے جن کا نام ساری دنیا میں مشہور ہے اور آپ ایک بہت اعلیٰ پائے کے قانون دان کے طور پر معروف ہیں اور ایک جسٹس کیانی