خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 191 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 191

خطبات طاہر جلدم 191 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۸۵ء کرتے تھے کہ ایک دفعہ ایک ملاں نے نکاح پر نکاح پڑھ دیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے دل میں اس کی بڑی عزت تھی کیونکہ وہ نیکی میں مشہور تھا۔آپ نے کہا کہ میں نہیں مان سکتا کہ ایسا واقعہ ہوا ہو۔لوگوں نے عرض کیا کہ واقعہ ایسا ہی ہوا ہے آپ اس ملاں کو بلا کر دیکھ لیں۔چنانچہ آپ نے اُسے بلوایا اور دریافت فرمایا کہ مولانا صاحب! آپ سے پوچھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ نے نکاح پر نکاح پڑھ دیا ہو، مگر لوگ کہتے ہیں۔تو ملاں نے عرض کیا کہ آپ یونہی مجھے متہم کر رہے ہیں پہلے میری بات تو سن لیں۔آپ نے فرمایا ہاں بتاؤ کیا بات ہے۔ملاں نے عرض کیا کہ میں بھی اس بات کا قائل ہوں کہ نکاح پر نکاح نہیں ہوسکتا۔اور پھر پنجابی میں کہا ”لیکن جدوں دوجے نے چڑی جڈ اردو پہیہ میرے ہتھ تے رکھ دتا تے فیر میں کیہ کردا یعنی ٹھیک ہے نکاح پر نکاح نہیں ہوسکتا لیکن اگر ایک پارٹی چڑیا کے برابر رو پیہ ہاتھ پر رکھ دے تو مولوی بیچارا کیا کرے۔تو یہ ہے جماعت اسلامی جس کا ان مسلمان ممالک سے کل تک کوئی رشتہ نہیں تھا اور جہاں ان کے نزدیک مسلمان خدا بنے بیٹھے تھے۔اب وہاں تیل نکل آیا ہے تو یہ بیچارے کیا کریں بالکل بے اختیار ہیں۔دین الگ معاملہ ہے اور دولت الگ چیز ہے۔بہر حال جب دولت کا معاملہ سامنے ہو تو پھر مولوی بیچارہ کیا کرے۔چنانچہ مولوی مودودی کہتے ہیں: نہ اقلیت کے تحفظ کی ہمیں ضرورت ہے ( مجاہدین اسلام کے عجیب تصورات ہیں ) نہ اکثریت کی بنیاد پر ہمیں قومی حکومت مطلوب ہے۔۔۔۔۔جو کچھ جاتا ہے جانے دو۔سیدنا مسیح کے قول کے مطابق جبہ جاتا ہے تو گر تہ بھی چھوڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ“۔( مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم صفحہ ۹۷-۹۹) : اے ظالم ! تجھے اس وقت سیدنا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تعلیم کیوں یاد نہیں آئی کہ جو مسلمان اپنی جان، مال اور عزت کی حفاظت کے لئے لڑتا ہوا مارا جاتا ہے وہ شہید ہوگا تمہیں کیوں خیال نہیں آیا کہ اس وقت کتنی مسلمان عورتوں کی عزتیں خطرہ میں تھیں ، ان کی عصمتیں خطرہ میں تھیں، حضرت محمد مصطفی مے کے نام کی حرمت خطرہ میں تھی ، مسلمان قوم کے احیاء کا سوال تھا، مسلمان قوم کی بقاء کا سوال تھا۔اس وقت تمہیں سیدنا محمد مصطفی ﷺ کا کوئی قول یاد نہیں آیا۔اس وقت اگر کوئی قول یاد