خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 190
خطبات طاہر جلدم 190 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء کالم نویس سے کہتا ہوں کہ ہاں وہ دکھ اس سے بہت زیادہ ہوا کرتا ہے اور وہ دکھ تم لوگوں سے پہنچا ہے۔وہ دکھ مجلس احرار سے مسلمانوں کو پہنچا ہے اور مبینہ جماعت اسلامی سے وہ دکھ مسلمانوں کو پہنچا ہے۔کوئی دکھ کسی ہندو یا سکھ کے ہاتھ سے پہنچا ہو اتنا شدید نہیں ہے جتنا شدیدا پنوں سے پہنچا ہوا کھ۔اگر آپ بھول چکے ہوں تو آپ کی یاد دہانی کے لئے میں جماعت اسلامی سے متعلق غیر احمدی مسلمانوں کے چند حوالے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔لیکن ان سے پہلے میں ایک حوالہ مولوی مودودی کا ہی پیش کر رہا ہوں بعد ازاں دوسروں کے حوالے ان کے متعلق پیش کروں گا۔وہ دور جو تحریک قیام پاکستان کا نہایت ہی اہم دور تھا جبکہ مسلمان زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے۔اس وقت جماعت احمد یہ تو قربانیوں میں حصہ لے رہی تھی اور اس تحریک کے نتیجہ میں جو پاکستان تعمیر ہورہا تھا اس کے متعلق مودودی صاحب کا تصور کیا تھا اور ان کے فتوے کیا تھے؟ ان سے متعلق مولانا موصوف لکھتے ہیں :۔اگر میں اس بات پر خوش ہوں کہ یہاں رام داس کی بجائے عبداللہ خدائی کے منصب پر بیٹھے گا تو یہ اسلام نہیں ہے بلکہ نرا نیشنلزم اور یہ مسلم نیشنلزم“ بھی خدا کی شریعت میں اتنا ہی زیادہ ملعون ہے جتنا ہندوستانی نیشنلزم“۔( مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوئم صفحہ: ۸۱) دیکھیں کیسے کیسے بہانے تراشے جا رہے ہیں کہ مسلمانوں کو کانگریس کا غلام بنا دیا جائے اور کانگریسی نیشنلزم کی تائید میں تو سارے مسلمان زور لگائیں لیکن مسلم نیشنلزم بڑا ملعون ہے اس کے قریب تک نہیں جانا چاہئے۔پھر فرماتے ہیں: نہ ہندوؤں سے ہمارا کوئی قومی جھگڑا ہے نہ انگریزوں سے، وطنیت کی بنیاد پر ہماری لڑائی ہے (احمدیوں کے خلاف جہاد کے فتوے دینے والوں کے اپنے فتوے یہ ہیں ) نہ ان ریاستوں سے ہمارا کوئی رشتہ ہے جہاں نام نہاد مسلمان خدا بنے بیٹھے ہیں۔جب تک ان ریاستوں میں تیل نہیں نکا تھا اس وقت تک تو کوئی رشتہ نہیں تھا۔اب تیل کا رشتہ جو نکلا ہے تو یہ بیچارے کیا کریں۔یہ تو ایسا ہی واقعہ ہے جیسا کہ حضرت خلیفہ امسیح الاول فر مایا