خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 188 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 188

خطبات طاہر جلدم 188 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۸۵ء مجھے یاد ہے کہ ان پناہ گزینوں کو با قاعدہ کھانا دیا جا تا رہا چونکہ خطر ناک حالات نظر آرہے تھے اس لئے حضرت مصلح موعود نے بڑی حکمت عملی کے ساتھ حالات کو جانچ کر جلسہ سالانہ کی ضروریات سے کہیں زیادہ گندم اکٹھی کی ہوئی تھی۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں ایک بھی مسلمان کو فاقوں نہیں مرنے دیا گیا بلکہ حاجتمندوں کی ضروریات کوترجیح دیتے ہوئے جمیزوں کے قیمتی کپڑے بھی ان میں تقسیم کئے گئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے خودا اپنی بیگم کے قیمتی کپڑے تقسیم کر کے اس کام کا آغاز کیا۔حضرت بیگم صاحبہ چونکہ نواب مالیر کوٹلہ کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اس لئے ان کپڑوں میں بعض اتنے قیمتی اور پرانے خاندانی ملبوسات چلے آرہے تھی کہ وہ ان کوخود بھی نہیں پہنا کرتی تھیں کہ کہیں خراب نہ ہو جائیں لیکن حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمۃ اللہ علیہ نے سب کے سامنے اور سب سے پہلے اپنے گھر سے کپڑوں کے بکس کھولنے شروع کئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان غرباء کو جن کے خواب و خیال میں بھی ایسے کپڑے نہیں آسکتے تھے تقسیم کر دیئے۔لینے والے تقریباً سارے غیر احمدی مسلمان تھے۔پھر اس کے بعد تو ہر گھر کے ہر کمرہ کے ہر بکس کے منہ کھل گئے اور جو کچھ تھا وہ سارا اپنے مصیبت زدہ غیر احمدی مسلمان بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔میں جب آخر میں قادیان سے نکلا ہوں تو میرے پاس ایک خا کی تھیلا تھا جس میں صرف ایک جوڑا تھا۔یہ نہیں کہ کوئی چیز لا نہیں سکتے تھے بلکہ ہمارے سارے گھر خالی پڑے ہوئے تھے اور جو کچھ تھا وہ سب تقسیم کر دیا گیا تھا۔چونکہ ان پناہ گزینوں کو ظالم اور سفاک سکھوں نے بالکل مفلس اور تلاش کر دیا تھا۔لہذا قادیان کے باشندگان نے ان بیچاروں کی کفالت کا بیڑا اٹھایا۔ظاہر ہے اتنی بڑی جمعیت کے لئے خوراک اور رہائش کا بار اٹھانا کوئی معمولی کام نہیں ہے اور خصوصاً ایسے ایام میں جب کہ ضروریات زندگی کی اتنی گرانی ہو چنانچہ یہ نا خواندہ مہمان قادیان کی کفالت میں اُس وقت تک رہے جب تک حکومت نے عمداً ان کو ایسا کرنے سے روک نہ دیا۔کاروان سخت جان صفحه: ۱۴۳-۴۴ ناشر اداره رابطه قرآنی دفتر محاسبات دفاع پاکستان مارچ ۱۹۵۱ء) اخبار ”زمیندار اپنی اشاعت ۲ اکتو بر ۱۹۴۷ء میں لکھتا ہے کہ: