خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 181 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 181

خطبات طاہر جلدم 181 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء جماعت میں موجود ہیں اس واسطے آپ بہت مفید کام مسلمانوں کے لئے انجام دے سکیں گے۔باقی رہا بورڈ کا معاملہ سو یہ خیال بھی نہایت عمدہ ہے۔میں اس کی ممبری کے لئے حاضر ہوں۔صدارت کے لئے کوئی زیادہ مستعد اور مجھ سے کم عمر کا آدمی ہو تو زیادہ موزوں ہو گا لیکن اگر اس بورڈ کا مقصد حکام کے پاس وفود لے جانا ہو تو ہمیں اس سے معاف فرمایا جائے۔وفد بے نتیجہ ثابت ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ مجھ میں اس قدر چستی اور مستعدی بھی باقی نہیں رہی بہر حال اگر آپ ممبروں میں میرا نام درج کریں تو اس سے پہلے باقی ممبروں کی فہرست ارسال فرمائیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اس خط اور بعض دوسرے خطوط کے نتیجہ میں جو دوسرے مسلمان علماء اور سیاسی راہنماؤں کی طرف سے آپ کی خدمت میں لکھے گئے ، ایک کانفرنس بلوانے کی تجویز کی۔اس کانفرنس کا انعقا د شملہ میں نواب سرذ والفقار علی صاحب کی کوٹھی پر ۱۹۳۱ء میں ہوا۔اس کا نفرنس میں جو بڑے بڑے راہنما شامل ہوئے ان میں سے چند نام میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔شمس العلماء خواجہ حسن نظامی ،سرمیاں فضل حسین صاحب ، سر محمد اقبال صاحب، سر ذوالفقار علی خان صاحب، جناب نواب صاحب کنج پوره، خان بہادر شیخ رحیم بخش صاحب ، سید محمد محسن شاہ صاحب ایڈووکیٹ ، مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی (امرتسر ) ، مولوی نورالحق صاحب مالک، مسلم آؤٹ لک ، سید حبیب صاحب ایڈیٹر ”سیاست“ وغیرھم۔اس کے علاوہ مولوی میرک شاہ صاحب سابق پروفیسر دیو بند نمائندہ کشمیر کی حیثیت سے اور اللہ رکھا صاحب ساغر نمائندہ جموں کی حیثیت سے اس میں شامل ہوئے۔اس کا نفرنس کے آخر پر علامہ سرمحمد اقبال نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا نام پیش کیا اور کہا کہ: میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ اگر اس کشمیر موومنٹ کو کامیاب بنانے کے ارادے ہیں تو جماعت احمدیہ کے امام مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے سوا اور کوئی اہل نہیں۔