خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 180
خطبات طاہر جلدم 180 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء اور ان کے ہاتھوں سے لکھی ہوئی تاریخ پاکستان تو پہچانی نہیں جارہی۔وہ تحریک جو آنحضرت ﷺ کی غیرت ، محبت اور عشق میں اٹھی تھی اس میں جن لوگوں کے ساتھ مقابلہ تھا اور جن پر چوٹیں پڑ رہی تھیں وہ یہ کہہ رہے تھے غرضیکہ ہر پہلو سے یہ ایک احمدی تحریک ہے۔“ اسی طرح ”پرتاپ “ اور دوسرے اخباروں نے بھی اس مضمون پر قلم اٹھائے اور کھلم کھلا یہ تسلیم کیا کہ اصل جوابی حملہ جس سے ہمیں شدید خطرہ ہے اور ہمیں نقصان پہنچ رہا ہے وہ جماعت احمدیہ کی طرف سے ہے۔دوسرا اہم موقع جو مسلمانان ہند کے لئے ایک نہایت ہی تکلیف دہ اور دردناک موقع تھا اور جس سے مسلمانوں کی سیاسی جمعیت اور سیاسی بقا کے خلاف ایک بہت بڑا خطرہ درپیش تھا اس کا آغاز کشمیر سے ہوا۔جب کہ کشمیر کے ڈوگرہ مہاراجہ نے مسلمانوں کے حقوق تلف کرنے شروع کئے اور ایک نا پاک مثال قائم کی کہ جہاں بھی ہندو اکثریت ہے وہاں مسلمانوں کو ان کے تمام حقوق سے محروم کر دیا جائے۔اس موقع پر مسلمانوں میں شدید بے چینی کی لہر دوڑ گئی اور ہندوستان کے شمال سے جنوب تک اہل فکر و نظر نے یہ سوچنا شروع کیا کہ اس کا کوئی علاج ہونا چاہئے۔چنانچہ اس زمانہ کے بڑے بڑے مفکرین اور سیاسی راہنماؤں کی نظریں قادیان کی طرف اٹھنے لگیں اور انہوں نے حضرت خلیفة المسیح الثانی کو خطوط کے ذریعے اور پھر پیامبر بھجوا کر توجہ دلائی کہ اگر آپ ہی اس کام کو سنبھالیں گے تو چل سکے گا ورنہ آپ کے بغیر یہ کشتی کنارے لگتی نظر نہیں آتی اور ان لوگوں میں ایک وہ بھی تھے جن کو آج جماعت احمدیہ کی مخالفت کرنے والے مسلمان لیڈروں میں سر فہرست پیش کیا جا رہا ہے۔یعنی ڈاکٹر علامہ سرمحمد اقبال ، جنہوں نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے پرائیویٹ سیکرٹری شیخ یوسف علی صاحب کے نام ایک خط ۵ ستمبر ۱۹۳۰ء کو لکھا۔چونکہ اس قسم کے حوالہ جات زیادہ تر جماعت احمدیہ کے اخباروں میں چھپے تھے اس لئے عموماً غیر احمدی علماء عام مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ یہ جھوٹے حوالے ہیں جو ان کے اپنے اخبارات میں چھپے ہوئے ہیں۔اس لئے میں نے ان حوالوں کی بجائے آپ کے سامنے پیش کرنے کے لئے سر علامہ اقبال کا یہ خط چنا ہے جو ان کے اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے اور جس پر ان کے دستخط بھی موجود ہیں وہ لکھتے ہیں : چونکہ آپ کی جماعت منتظم ہے اور نیز بہت سے مستعد آدمی اس