خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 176 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 176

خطبات طاہر جلدم 176 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء قرطاس ابیض میں اسلام اور مسلمان ممالک کی غدار جماعت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔جہاں تک مسلمانان ہند کی تاریخ کا تعلق ہے اس کے دو حصے ہیں ایک پاکستان کے قیام سے قبل اور ایک پاکستان کے قیام کے بعد۔قیام پاکستان سے قبل کے جو اہم واقعات ہیں اُن میں سے چند ایک میں نے گزشتہ خطبہ میں نمونہ پیش کئے تھے اور چند ایک کا آج کے لئے انتخاب کیا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جب بھی برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں پر کوئی بھی مصیبت ٹوٹی یا کسی رنگ میں ان کی مذہبی دل آزاری ہوئی تو خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ ان مشکلات کو دور کرنے میں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئے صف اول کے قربانیاں کرنے والے لوگوں میں شامل تھی بلکہ بسا اوقات یہ جدو جہد جو مختلف وقتوں میں شروع ہوتی رہی اس کا سہرا کلیۂ جماعت احمدیہ کے سر تھا اور وہی اس جہاد کی علمبردار رہی۔گو دوسرے مسلمان شرفاء نے بھی شرکت کی اور جماعت احمدیہ کے ساتھ بہت تعاون کیا۔لیکن وہ عظیم تحریکات جو حقیقہ مسلمانوں کی خدمت کے لئے گزشتہ دور میں برصغیر پاک و ہند میں چلائی گئیں ان میں زیادہ تر را ہنمائی اور زیادہ سے زیادہ خدمت کی توفیق اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ جماعت احمد یہ کوملتی رہی۔ہندوستان میں جن سالوں میں خاص طور پر مسلمانوں کی دل آزاری کی گئی ہے اُن میں سے ۱۹۲۷ء کا سال خاص طور پر قابل ذکر ہے۔یہ وہ سال ہے جس میں بدنام اور نہایت ہی رسوائے عالم کتاب ”رنگیلا رسول لکھی گئی اور آنحضرت ﷺ کی مقدس ذات پر اس قدر خوفناک اور کر یہ حملے کئے گئے کہ اُن کے تصور سے بھی مسلمان کا خون کھولنے لگتا ہے اور ابھی یہ صدمہ کم نہیں ہوا تھا بلکہ اس کے مصنف راجپال کے خلاف ایک مہم جاری تھی کہ ایک اور آریہ رسالہ ”ورتمان میں ایک ہندو عورت نے آنحضرت ﷺ کے متعلق ایک ایسا نا پاک مضمون لکھا کہ کوئی شریف النفس انسان اس کو پڑھ بھی نہیں سکتا۔مسلمان تو مسلمان کوئی دوسرا بھی اس کو پڑھے تو حیران ہو کہ یہ کیسی سیاہ کار عورت ہے جس کے قلم سے ایسے حیثا نہ کلمات ایک مذہب کے بانی کے متعلق نکل رہے ہیں۔ایک عام مذہب کے بانی کے متعلق بھی کوئی شریف انسان اس قسم کے کلمات نہیں کہہ سکتا مگر سید ولد آدم کے متعلق جو سب پاکوں سے بڑھ کر پاک تھے ، جو سب سیدوں سے بڑھ کر سید تھے ، سب سرداروں سے بڑھ کر سردار