خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 171 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 171

خطبات طاہر جلد۴ 171 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء طے کرنے کے لئے ایک ہال میں اکٹھے ہوئے تو ہندوؤں نے جب احمدیوں کا کوئی نمائندہ نہ دیکھا تو انہوں نے مسلمان رہنماؤں سے کہا تم یہ کیا باتیں کر رہے ہو ۔ لڑنے والے تو ہال سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں تم سے صلح کر کے ہم کیا کریں گے۔ تم تو وہ لوگ ہو جو ہمیں ملکانے کے میدانوں میں نظر نہیں آیا کرتے تھے۔ جن لوگوں سے ہمیں خوف ہے اور جن سے ہمیں مار پڑنے کا خطرہ ہے وہ تو آزاد بیٹھے رہیں گے اور پھر بھی ہم پر حملے کرتے چلے جائیں گے ۔ چنانچہ فوری طور پر کانفرنس ملتوی کی گئی اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی ( اللہ آپ سے راضی ہو ) کی خدمت میں قادیان تار کے ذریعہ معذرت کی گئی اور درخواست کی گئی کہ فوری طور پر اپنا نمائندہ بھجوائیں اس کے بغیر یہ کانفرنس کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ یہ ہے تاریخ اسلام جو ہمیشہ کے لئے بن چکی ہے۔ یہ تو اب نہیں مٹے گی اور نہ مٹائی جائے گی۔ کوئی آمر وقت یہ طاقت نہیں رکھتا کہ ان لکھی ہوئی تحریروں اور خدا کی تقدیروں کو بدل دے۔ یہ خدا کی قدرت کی ایسی تقدیریں ہیں جو ظاہر ہو چکی ہیں۔ ایک فوج کیا ساری دنیا کی فوجی طاقتیں اکٹھی ہو جائیں تب بھی ان لکھی ہوئی تحریروں کو مٹا نہیں سکتیں کیونکہ یہ صفحہ ہستی پر ہمیشہ کے لئے نقش ہو چکی ہیں ۔ یہ ہے کردار جماعت احمدیہ کا ، کل بھی ایسا تھا، آج بھی ایسا ہی ہے اور آنے والے کل بھی ایسا ہی رہے گا۔ اے مخالفو ! تم نے ہمارے ساتھ جتنی دشمنیاں کرنی ہیں کرلو، جتنے ناشکرے پن کے ثبوت دینے ہیں دیتے چلے جاؤ مگر میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ کل جو تم پر مصیبت ٹوٹے گی اس میں بھی جماعت احمد یہ صف اول میں کھڑی ہوگی اور تمہارے خلاف علوس بڑھ کر چلنے والے تیر اپنے سینوں پر لے گی ۔ ہم سے بڑھ کر اسلام کا اور کوئی وفادار نہیں ، ہم سے بڑھ صلى الله مسلمان قومیت کا اور کوئی ہمدرد نہیں ، ہم سے بڑھ کر دین محمد مصطفیٰ ﷺ کا اور کوئی شیدائی اور فدائی نہیں ہے۔ ماضی بھی تمہیں یہی بتا تا رہا مگر تم ہر دفعہ اس سبق کو بھول جاتے رہے اور کل آنے والا وقت بھی تمہیں یہی بتائے گا۔ اے کاش! تمہاری آنکھیں کھلیں اور تم دیکھو کہ کون تمہارا دوست ہے اور کون تمہارا دشمن ہے۔ لیکن یہ واقعات تو بڑے طویل ہیں ۔ میرا خیال تھا کہ پاکستان کے قیام سے پہلے کے واقعات اختصار کے ساتھ بیان کرنے کے قابل ہو جاؤں گا لیکن ابھی تو یہ داستان آدھی بھی ختم نہیں ہو پائی۔ میرا خیال ہے کہ انشاء اللہ آئندہ خطبہ میں کوشش کروں گا کہ اس مضمون کے بقیہ حصہ کو