خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 170
خطبات طاہر جلدم 170 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فرماتے ہیں۔صحابة ملا جب مجھ کو پایا (در نمین صفحه ۵۶) تو مولویوں کو بڑا طیش آتا ہے اور بڑے مشتعل ہو جاتے ہیں کہ یہ کیا بات کہہ دی لیکن جب عملاً اسلام کے دفاع کا مرحلہ درپیش ہوا اور اسلام کی حمایت کا وقت آتا ہے تو وہی باتیں اور وہی فقرے کہنے پر تم مجبور کر دیئے جاتے ہو۔خدا کے فرشتے تمہارے قلم سے وہی فقرے نکلواتے ہیں کہ ہاں احمدی وہ لوگ ہیں جن کو دیکھ کر متقدمین یاد آتے ہیں۔یعنی احمدیوں کے بے لوث خدمت اور جذ بہ قربانی کو دیکھ کر وہ بزرگ اسلاف جنہوں نے حضرت محمد مصطفی علیہ کے زمانہ کو پایا وہی متقدمین کہلاتے ہیں۔چنانچہ شیخ غلام حسین صاحب لکھتے ہیں : " جس اعلیٰ ایثار کا ثبوت جماعت احمدیہ نے دیا ہے اس کا نمونہ سوائے متقدمین کے مشکل سے ملتا ہے۔ان کا ہر ایک مبلغ غریب ہو یا امیر بغیر مصارف سفر و طعام حاصل کئے میدان عمل میں گامزن ہے۔شدید گرمی اور لوؤں میں وہ اپنے امیر کی اطاعت میں کام کر رہے ہیں۔بیان شیخ غلام حسین صاحب ہیڈ ماسٹر ہائی سکول جہلم) ایسے اور بھی بہت سے اقتباسات اور حوالے ہیں جو متفرق مسلمان اخبارات کی طرف سے مسلمان مشاہیر کی طرف سے اس بات کے کھلم کھلا اعتراف پر مشتمل ہیں کہ جماعت احمدیہ نے تحریک شدھی میں اسلام کی خدمت کا حق ادا کر دیا۔لیکن جب جماعت احمدیہ کے شدید دباؤ کے نتیجہ میں وہ متکبر آریہ سماجی لیڈر جو کبھی مسلمانوں سے اس معاملہ میں بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے اور اسلام پر یک طرفہ حملے کئے جارہے تھے۔جب وہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئے تو انہوں نے سمجھا کہ اب صلح کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔چنانچہ انہوں نے صلح کے لئے جو کا نفرنس بلائی اس میں فریقین کے چوٹی کے رہنما اکٹھے ہوئے تو اس وقت ایک عجیب لطیفہ یہ ہوا کہ اس مجلس میں سوائے جماعت احمدیہ کے سب فرقوں کو دعوت دی گئی۔اگر اس میں نہیں تھا تو جماعت احمدیہ کا ہی نام نہیں تھا۔چنانچہ ہندو اور مسلمان رہنما جب صلح کی شرائط