خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 169 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 169

خطبات طاہر جلدم 169 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء اور قدردانی کے قابل ضرور ہے“۔یہ دیکھئے غیر مسلموں کے عادات و خصائل! کیا عمدہ خصائل ہیں غیر مسلموں کے ایثار کمر بستگی ، نیک نیتی اور تو کل علی اللہ۔اگر یہی غیر مسلم خصائل ہیں تو پھر تم بھی ان کو اپناؤ کیونکہ یہ زندگی کے خصائل ہیں ان کے بغیر قومیں زندہ نہیں ہوا کرتیں۔آخر تم ہوش کے ناخن کیوں نہیں لیتے۔حقائق کی دنیا میں کیوں نہیں اترتے۔زندہ رہنے کے کیا گر اور آداب ہیں ، ہم سے سیکھو۔پس انہی خصائل کے مالک وہ لوگ تھے جو دشمن کو بھی نظر آرہے تھے۔لیکن کیا تمہارے اپنے مسلمان جنہوں نے احمدیت کی مخالفت میں زندگیاں وقف کی ہوئی تھیں وہ دشمن کو نظر آ رہے تھے؟ نہیں ہرگز نہیں۔اخبار ”زمیندار“ مزید لکھتا ہے: ”جہاں ہمارے مشہور پیراور سجادہ نشین حضرات بے حس وحرکت پڑے ہیں اس اولوالعزم جماعت نے عظیم الشان خدمت کر کے دکھا دی۔اب بدل دو اس ساری تاریخ کو، یہ تو لکھی گئی۔واقعات کے قلم نے اسے لکھ دیا۔تمہارے اپنے ہاتھوں سے نکلے ہوئے تمہارے اپنے قلم سے لکھے ہوئے الفاظ نے ان حقائق کی تصدیق کردی ہے۔اب جتنا چاہو واویلا کرتے چلے جاؤ، ان تاریخی حقائق کو تم کبھی بھی صفحہ عالم سے مٹا نہیں سکتے۔شیخ غلام حسین صاحب جہلم کے ایک غیر احمدی دوست تھے وہاں مختلف جماعتوں کی طرف سے جو لوگ کام کر رہے تھے یہ بھی ان میں شامل تھے انہوں نے وہیں اخبار زمیندار کو ایک خط لکھا جسے اخبار نے اپنی اشاعت ۲۹ جون ۱۹۲۳ء میں شائع کیا۔شیخ غلام حسین صاحب اخبار ”زمیندار“ کے ایڈیٹر کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں : قادیانی احمدی اعلیٰ ایثار کا اظہار کر رہے ہیں۔ان کا تقریباً ایک سو مبلغ امیر وفد کی سرکردگی میں مختلف دیہات میں مورچہ زن ہے۔ان لوگوں نے نمایاں کام کیا ہے۔یہ جملہ مبلغین بغیر تنخواہ اور سفر خرچ کے کام کر رہے ہیں۔ہم گو احمدی نہیں لیکن احمدیوں کے اعلیٰ کام کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔جس اعلیٰ ایثار کا ثبوت جماعت احمدیہ نے دیا ہے اس کا نمونہ سوائے متقدمین کے مشکل سے ملتا ہے“۔