خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 167 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 167

خطبات طاہر جلدم 167 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء ہیں۔کچھ خدا کا خوف بھی کرو۔آخر جھوٹ بولنے کی بھی تو کوئی حد ہونی چاہئے۔ہند دھرم اور اصلاحی تحریکیں ایک کتاب ہے اس کا مصنف لکھتا ہے : آریہ سماج نے شدھی یعنی نا پاک کو پاک کرنے کا طریقہ جاری کیا ( مسلمانوں کو ہندو بنانا۔ناقل ) ایسا کرنے سے آریہ سماج کا مسلمانوں کے ایک تبلیغی گروہ یعنی قادیانی فرقے سے تصادم ہو گیا۔اس وقت کیا کر رہے تھے یہ اسلام کے علمبردار، وفادار اور جانیں فدا کرنے والے اور جماعت احمدیہ پر دن رات یہ الزام لگانے والے کہ تم جہاد کے خلاف فتوے دے کر اسلام کے غدار ثابت ہو چکے ہو۔سوال یہ ہے کہ جب دین کی خاطر عملی جہاد کے میدان کھلے ہیں تو ان میدانوں میں دند نا تا ہوا پھرنے والا کون تھا، احمدی شیر تھے۔یا وہ تم لوگ تھے جو احمدیت پر الزام لگاتے ہو۔دشمن کو میدان کارزار میں تمہارا کوئی نشان نظر نہیں آیا۔ان کو مقابل پر نظر آئے تو احمدی نظر آئے۔چنانچہ مصنف لکھتا ہے: آریہ سماج کا مسلمانوں کے ایک تبلیغی گروہ یعنی قادیانی فرقے سے تصادم ہو گیا۔آریہ سماج کہتی تھی کہ وید الہامی ہے اور سب سے پہلا آسمانی صحیفہ ہے اور مکمل گیان ہے۔قادیانی کہتے تھے کہ قرآن شریف خدا کا کلام ہے اور حضرت محمد خاتم النبین ہیں“۔(صفحہ ۴۳ ۴۴) اس اقتباس کا آخری حصہ میں پہلے پڑھ کر سنا چکا ہوں اسے دوبارہ میں نے اس لئے پڑھا ہے یہ بتانے کے لئے کہ کتنی واضح حقیقت ہے جو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آج بھی ان لوگوں کو متنبہ کر رہی ہے کہ تم چاہے جو کچھ کہو مگر اسلام پر جب بھی کوئی مشکل وقت آئے گا اور خطرات کے بادل منڈلانے لگیں گے تو صرف ایک جماعت احمدیہ ہی ہے جو اس سے پہلے بھی مقابلے کے لئے آگے بڑھتی رہی ہے ، آئندہ بھی ہمیشہ اسلام کے دفاع میں سب سے بڑھ کر قربانیاں پیش کرے گی۔تحریک شدھی کے بارہ میں اخبار آریہ پتریکا بریلی یکم اپریل ۱۹۲۳ء کی اشاعت میں لکھتا ہے: اس وقت ملکانے راجپوتوں کو اپنے پرانی راجپوتوں کی برادری میں