خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 162
خطبات طاہر جلدم 162 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء کے لئے پکارا گیا تو اس وقت ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور ہر طرف سے آوازیں اٹھنے لگیں کہ ہندؤوں کی اس کوشش کو ناکام بنانا چاہئے اور مسلمانوں کو اسلام پر قائم رکھنے کے لئے ایک جہاد شروع کرنا چاہئے۔چنانچہ اس وقت قادیان میں اس کا جو رد عمل ہوا وہ عظیم الشان تھا۔قادیان میں جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک ایسی مضبوط اور زبر دست تحریک چلی کہ اس نے شدھی کی تحریک کا رخ پلٹ دیا اور ہندؤوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔اس سلسلہ میں باقی تمام تحریکات جو ہر طرف سے اٹھیں خصوصاً احرار کی تحریک جو شدھی کے نام پر اٹھی تھی اس کا کیا حشر ہوا اور احراریوں نے اس تحریک میں کیا کارنامے سرانجام دیئے ، ان کا ذکر میں غیر احمدی مسلمان اور ہندو اخباروں کے حوالوں کی روشنی میں کرنا چاہتا ہوں۔قبل اس کے کہ میں جماعت احمد یہ اور اس کے مخالفین کے کردار کا ذکر کروں میں پہلے ہندو ارادوں کو خود ان کے الفاظ میں بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔چنانچہ ہندؤوں کے ایک مشہور اخبار تیج، دہلی نے یہ اعلان کیا اور بڑے عزم کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ: بلا شدھی کے ہندو مسلم ایکتا نہیں ہوسکتی“ یعنی وہ لکھتے ہیں کہ ہندو مسلم اتحاد کا کیا مطلب؟ ایک ہی صورت ہے کہ سارے مسلمان ہندو ہو جائیں اس سے بہتر ایکتا کی کوئی صورت نہیں۔جس وقت سب مسلمان شدھ ہو کر ہندو ہو جائیں گے تو سب ہندو ہی ہندو نظر آئیں گے۔( یہ ایک جلسے کی رپورٹ ہے اور لکھا ہوا ہے خوب تالیاں بجیں ) پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کو آزادی سے نہیں روک سکتی۔اگر شدھی کے لئے ہم کو بڑی سے بڑی مصیبت اٹھانی پڑے تو بھی اس اندولن کو آگے بڑھانا چاہئے۔(روز نامہ تیج دہلی ۲۰ مارچ ۱۹۲۶ء) پھر اخبار پرتاپ یہ خبر دیتا ہے: نواح آگرہ میں راجپوتوں کو تیز رفتاری سے شدھ کیا جا رہا ہے اور اب تک چالیس ہزار تین سو راجپوت، ملکانے ، گوجر اور جاٹ ہندو ہو چکے ہیں۔ایسے لوگ ہندوستان کے ہر حصہ میں ملتے ہیں۔یہ پچاس ساٹھ لاکھ سے