خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 160
خطبات طاہر جلدم 160 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء ایک کتاب ہے ”مسلمانان ہند کی حیات سیاسی‘ اس میں محمد مرزا دہلوی صاحب اس تحریک کی نا کامی پر کف افسوس ملتے ہوئے لکھتے ہیں : ”یہ ہندوؤں کا پروگرام تھا“ (کل جب تمہیں جماعت احمدیہ یہ کہ رہی تھی کہ ہندوؤں کا پروگرام ہے اس وقت تو تم جماعت کے امام کو نعوذ بالله من ذالک غدار اعظم کہہ رہے تھے۔اس وقت تو تم یہ بات سننے کے لئے تیار نہیں تھے۔اس وقت تو کلمہ حق کہنے کے نتیجہ میں مظلوم احمد یوں کو سزائیں دی جارہی تھیں لیکن جب وہ طوفان گزر گیا تو پھر خود ہی یہ لکھنے لگے کہ یہ تو ہندوؤں کا پروگرام تھا ) ”ہندو ہی اس کے رہنما تھے۔مسلمانوں کی حیثیت اس ایجی ٹیشن میں ان کے آلہ کار سے زیادہ نہیں تھی۔اس وقت تک اُن سے کام لیا جب تک انہیں ضرورت رہی اور اس وقت ایجی ٹیشن بند کر دیا جب ان کی ضرورت ختم ہو گئی۔مولانا عبدالمجید سالک اپنی کتاب ”سر گزشت میں اس تحریک کے انجام کا ذکر یوں کرتے ہیں : جذبات انسانی کی کیفیت عجیب ہے ، یہ مخلص اور جو شیلے مسلمان کس جوش و خروش سے ایک دینی حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے وطن کو ترک کر رہے تھے اور پھر چند ماہ بعد جب امیر امان اللہ خاں کی حکومت نے اس لشکر جرار کی آباد کاری سے عاجز آکر اس کو جواب دے دیا تو ان مہاجرین کی عظیم اکثریت بادل بریاں و با دیده گریاں واپس آگئی اور اس تحریک کا جو محض ہنگامی جذبات پر مبنی تھی نہایت شرمناک انجام ہوا۔(سرگزشت صفحہ ۱۱۳۰) پس مسلمانوں کی یہ عجیب حالت ہے کہ کانگرسی ملاؤں سے بار بارزک اٹھاتے ہیں پھر بھی دوست و دشمن کی تمیز اور فرق کرنے کی اہلیت نہیں پاتے۔جماعت احمدیہ کے خلاف انہی ملاؤں کی طرف سے بار بار جھوٹ بولا جاتا ہے اور ہر اہم موقع پر جماعت کی خدمت ، بر وقت اور پر حکمت رہنمائی اور جماعت کی دوستی کے ہاتھ سے یہ ملا لوگ مسلمان عوام کو ہمیشہ محروم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔چنانچہ تحریک خلافت کا بھی وہی انجام ہوا جس کے متعلق جماعت احمدیہ نے ان کو متنبہ کر دیا تھا۔وہ قافلے جوان علماء کو دلائی ہوئی جھوٹی آرزؤوں کے قافلے تھے وہ اس حال میں ہندوستان سے روانہ