خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 154 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 154

خطبات طاہر جلد ۴ 154 خطبه جمعه ۲۲ رفروری ۱۹۸۵ء جذبات انگیزی کی کیفیت اس فقرہ سے معلوم ہوتی ہے کہ ہمیں اب ملک سے ہجرت کر جانے کے سوا اور کوئی شرعی چارہ باقی نہیں ہے“ ۔ (بار دوم صفحہ : 1 ) ۱۱۱) یہ وہ شرعی فتوی تھا جو مہاتما گاندھی نے مسلمانوں کی خاطر لیا تھا ۔ مولانا عبدالمجید سالک صاحب کہتے ہیں کہ مولانا محمد علی نے دوران تقریر کہا: ” اب اس ملک سے ہجرت کر جانے کے سوا اور کوئی شرعی چارہ باقی نہیں ہے اس لئے ہم اس ملک کو چھوڑ جائیں گے اور اپنے مکانات اور اپنی مساجد ( مساجد کا یہ لفظ خاص طور پر یا درکھنے کے قابل ہے ۔ ناقل ) ، اپنے بزرگوں کے مزارات سب بطور امانت اپنے ہندو بھائیوں کو سونپ جائیں گے۔ تا آنکہ ہم پھر فاتحانہ اس ملک میں داخل ہو کر انگریزوں کو نکال دیں اور اپنی امانت اپنے بھائیوں سے واپس لے لیں ۔ مجھے یقین ہے کہ ہندو بھائی جن کے ساتھ ہم ایک ہزار سال سے زندگی بسر کر رہے ہیں ہماری اتنی خدمت سے پہلو تہی نہ کریں گے ۔ (بار دوم صفحہ: ۱۱۱) ۔ ،، یہ ہندو بھائی بھی بڑا دلچسپ محاورہ ہے۔ یہ پہلے بھی استعمال ہوتا رہا ہے، آج کل بھی پاکستان میں استعمال ہو رہا ہے۔ احمدی بھائی نہیں مگر ہندو اور عیسائی بھائی ہے۔ آخر کیوں نہ ہو ہزار سال سے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہے۔ مولانا عبدالمجید سالک صاحب لکھتے ہیں : ان کے بعد بریلی کے ایک بنسی دھر پاٹھک کھڑے ہوئے ، ان کی تقریر بہت پر جوش اور بے حد دلچسپ تھی۔ اُنہوں نے مولانا محمد علی کے نہلے پر دہلا یوں مارا کہ اگر مسلمان بھائی اپنی شریعت کے احکام کے تحت اس ملک سے ہجرت کر جانے پر مجبور ہیں تو ہندو بھی یہاں رہ کر کیا کریں گے ( کتنا دردناک فقرہ ہے ) اگر مسلمان چلے جائیں ) تو ہندوجاتی بھی ہجرت میں مسلمانوں کا ساتھ دے گی اور ہم اس ملک کو ایک بھائیں بھا ئیں کرتا ہوا ویرانہ بنادیں گے تا کہ انگریز اس ویرانے سے خود ہی دہشت کھا کر بھاگ جائیں ( سرگزشت بار دوم صفحه: ۱۱۱ ۱۱۲) مولا ناسا لک صاحب لکھتے ہیں :