خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 153
خطبات طاہر جلدم 153 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء موالات پر ابھارا گیا تھا۔یہ تحریک در اصل مہاتما گاندھی کے دماغ کی ایک ایجاد تھی۔کانگریس نے جن ملاؤں کو نوازا ہوا تھا، ان کے ذریعہ یہ تحریک چلائی گئی اور پھر یہ اتنی شدت پکڑ گئی کہ تمام بڑے بڑے علماء اور تمام مسلمان سیاسی رہنما اس کی لپیٹ میں آگئے اور پھر کانگرسی اور غیر کانگرسی کا فرق نہ رہا۔اس تحریک کے بارہ میں مسٹر گاندھی نے خود جا کر مسلمان علماء سے فتوے لئے کہ دیکھو انگریز نے کتنا ظلم کیا ہے ، خلافت مٹادی ہے تو اے مسلمان علماء تمہارا کیا فتویٰ ہے کہ اگر مقابلہ ممکن نہ ہو تو جہاد کیسے کیا جا سکتا ہے۔یعنی ہندو لیڈر مسلمانوں کی بھلائی کے لئے فتوے لے رہے ہیں۔چنانچہ جب گاندھی جی نے مسلمانوں سے فتویٰ پوچھا تو چوٹی کے پانچ سو مسلمان علماء نے گاندھی کو یہ فتویٰ دیا کہ اب تو مسلمانوں کے لئے ایک ہی راستہ رہ گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ انگریزوں کے ساتھ رہن سہن کلیپ ترک کر دیا جائے اور اپنا وطن چھوڑ کر مسلمان کسی اسلامی ملک میں ہجرت کر جائیں اور پھر وہاں سے حملہ کر کے بڑی شان کے ساتھ واپس آئیں اور انگریزوں کو مار مار کر ہندوستان سے نکال دیں۔غرض یہ وہ فتویٰ تھا جس کو بنیاد بنا کر ترک موالات کی تحریک چلائی گئی۔چنانچہ اس تحریک کی کامیابی کے لئے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سے تک مسلمان مرنے مارنے پر تیار ہو گئے۔اس حالت کا ذکر کرتے ہوئے مولانا عبدالمجید سالک اپنی کتاب سرگزشت میں لکھتے ہیں، یہ ان کا آنکھوں دیکھا حال ہے۔وہ کہتے ہیں: اسی رات کانگرس کے پنڈال میں خلافت کانفرنس کا اجلاس ہوا۔اس وقت بھولتا ہوں کہ صدر گاندھی جی تھے یا مولا نا محمد علی۔بہر حال تمام اکابر اس میں شریک ہوئے۔اسٹیج پر گاندھی جی ، تلک مسز اینی بسنٹ ، جیکر ، کیلکر ، محمد علی ، شوکت علی ، ظفر علی خان، سید حسین ، مولانا عبدالباری، مولانا فاخر الہ آبادی، مولانا حسرت موہانی اور بہت سے دیگر رہنما موجود تھے۔مولانامحمد علی نے پہلے انگریزی میں تقریر کی اور کہا کہ میں کچھ دیر تک انگریزی تقریر کروں گا تا کہ جوا کابر ملک اردو نہیں سمجھے وہ خلافت کے متعلق مسلمانوں کے موقف کو سمجھ لیں اس کے بعد اردو میں تقریر کروں گا۔مولانا کی تقریر بے نظیر تھی۔نہ صرف زبان اور اندازِ بیان کے اعتبار سے بلکہ مطالب کے لحاظ سے بھی پورے مسئلے پر حاوی تھی اور