خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 147
خطبات طاہر جلدم 147 خطبه جمعه ۱۵ار فروری ۱۹۸۵ء مزاج سے ہم آہنگ آواز ہے، یہ تو وہی آواز ہے جو میجر آسبرن کے خون میں آتش غضب بن کر دوڑا کرتی تھی ، یہ تو وہی نجس آتش سیال ہے جس نے ہزار ہا معاندین اسلام کو آنحضرت ﷺ کے خلاف آتش حسد میں بریاں رکھا۔میرے وجود پر تو اس تحریر کو پڑھ کر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔تن بدن میں آگ سی لگ جاتی ہے، الفاظ نہیں یہ تو بے رحم پتھر ہیں، کلام نہیں یہ تو سفاک اور تیز دھارنشتر ہیں جو ہر عاشق رسول کے دل پر چلتے ہیں۔یہ وہ نشتر ہیں جن کے زخم گہرے اور پر درد اور سخت اذیت ناک ہیں۔کیا یہ مزاج شناس نبوت کی آواز ہے جو ہم سن رہے ہیں نہیں انہیں ! یہ تو آسبرن اور پادری عمادالدین کی باتیں ہیں جو مسلمانوں کے دل کو خون کرنے والی ہیں۔خدا کے لئے اسے روح اسلام نہ کہوا سے روح مودودیت کہو۔تف ہے ان پر جو اس آواز کو روح اسلام کہتے ہیں۔کہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عارفانہ تصور غلبہ اسلام اور تصور جہاد اور کہاں یہ بھیس بدلی ہوئی لاکھ پر دوں میں لپٹی ہوئی باتیں جو ان پردوں میں رہ کر بھی اپنے زہر کو چھپا نہیں سکتیں ،ان کا نشتر ان پردوں کو چاک کر کے پھر بھی ہمارے دلوں پر حملہ کر رہا ہے۔پس یہ وہ باتیں ہیں جو آنحضرت علیہ اور اسلام پر سب سے زیادہ بھیا نک الزامات اور ہیں۔ہم کیسے تسلیم کریں اس تصور جہاد کو۔یہ تو مٹنے اور رد کئے جانے کے لائق تصور ہے۔ہمارے آقاو مولی حضرت محمد ﷺ کی طرف ایک لحظہ کے لئے بھی اس تصور کو منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ہم اس کو کسی صورت میں ماننے کے لئے تیار نہیں۔پس ان علماء کے حالات کو دیکھیں دل پر ایک عجیب سی کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔اسلام کے نام پر مگر اس کی روح سے یکسر غافل یہ لوگ خدا کے مقدس وجودوں پر ظالمانہ حملے کرنے والے وقت وقت کی آواز میں بدلتے رہتے ہیں اور کوئی خوف نہیں کھاتے کہ ہم کیا کہہ ہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ہماری زبان کیا ہے اور ہمارا عمل کیا ہے۔جہاں تک اس مضمون کے بقیہ حصہ کا تعلق ہے کہ جب کبھی عالم اسلام پر مصیبتوں کے وقت آئے تو کون تھا جو اس کی خاطر صف اول میں سینہ سپر ہو گیا اور اسلام کے دکھ اپنے سینے پر لئے ، کیا وہ احمدی مسلمان تھے یا یہ علماء جو سادہ لوح مسلمانوں کو ہمیشہ بیوقوف بناتے رہے اور آج بھی بنا رہے ہیں۔چونکہ وقت بہت زیادہ ہو چکا ہے اس لئے جہاں تک اس حصہ کا تعلق ہے اس پر انشا اللہ تعالیٰ میں آئندہ خطبہ میں روشنی ڈالوں گا۔