خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 146 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 146

خطبات طاہر جلدم 146 خطبه جمعه ۱۵ار فروری ۱۹۸۵ء مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں یکدفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا اور وہ عجائب باتیں دکھلا ئیں کہ جو اس امی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھی اللهم صل وسلم و بارک علیه و آله۔بركات الدعار وحانی خزائن جلد 4 صفحہ : ۱۰-۱۱) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تحریر کے مقابلہ پر مودودی صاحب کی تحریر پڑھ کر دیکھ لیجئے دونوں میں ایک فرق بین ہے ، بعد المشرقین یعنی مشرق اور مغرب کا فرق ہے۔ایک طرف روح حق اور روح اسلام بول رہی ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قلب مطہر پر جلوہ افروز ہوئی اور پاک کلام کی صورت میں آپ کی زبان مبارک سے جاری ہوئی۔یہ وہ آواز ہے جس نے ہمیں غلبہ اسلام کی قوت کے سرچشمہ کی راہ دکھائی اور ہماری تشنہ روحوں کو سیراب کیا ، جس نے اس ازلی و ابدی صداقت سے ہمیں روشناس کرایا کہ محمد رسول اللہ علیہ کے غلبہ اور قوت ،شوکت اور سطوت کا راز آپ کی قوت قدسیہ میں نہاں تھا۔جو مقبول دعاؤں کی صورت میں ایک گھٹا بن کر اٹھی اور مخالف کی ہر اس آگ کو ٹھنڈا کر دیا جو صحرائے عرب میں بھڑ کائی گئی تھی اور خشک وتر اور بحر و بر کو سیراب کیا اور ایک ایسا آب حیات برسایا جس نے صحراؤں کو سبزہ زاروں میں اور ویرانوں کو چمنستانوں میں تبدیل کر دیا اور مردہ زمینوں کو زندہ کر دیا۔پس ایک طرف یہ ہے کہ روح حق اور روح اسلام کی آواز اور دوسری طرف مودودیت کی روح ہے جو مودودی صاحب کے الفاظ میں بول رہی ہے اور ظلم وستم کے عجیب گل کھلا رہی ہے۔اسلامی تعلیم کے مطالعہ کے بعد ان کی عمر بھر کی عرقریزی کا نچوڑ یہ ہے جو وہ ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں ”جب وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد۔۔انا لله و انا اليه راجعون! کیا یہ مزاج شناس نبوت کی آواز ہے جو ہم سن رہے ہیں۔نہیں! نہیں ! مزاج شناس نبوت نہ کہو یہ تو معاندین اسلام کے