خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 145
خطبات طاہر جلدم 145 خطبه جمعه ۱۵ار فروری ۱۹۸۵ء خَتَمَ اللهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَ عَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ) (البقرة: ٨) یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لائیں گے سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَهُ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ (البقره: (سَوَاءٌ عَلَيْهِمُ والوں کی تصویر کھینچی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ظلم اور سفاکی کے پردے چاک نہیں ہوا کرتے لیکن مودودی صاحب کہتے ہیں اللہ کو کیا پتہ میں جانتا ہوں کہ جب تک تلوار استعمال نہیں ہوئی پر دے چاک نہیں ہوئے۔اللہ تعالیٰ اس وقت نیک صحیح فرمارہا تھا جب تک تلوار نہیں اٹھی مگر جب تلوار چلی تو پھر یہ سارے پردے چاک ہو گئے۔بلکہ گردنوں میں وہ بختی اور سروں میں وہ نخوت بھی باقی نہیں رہی جو ظہور حق کے بعد انسان کو اس کے آگے جھکنے سے باز رکھتی ہے۔عرب کی طرح دوسرے ممالک نے بھی (سنئے ! ) جو اسلام کو اس سرعت سے قبول کیا کہ ایک صدی کے اندر چوتھائی دنیا مسلمان ہوگئی تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ اسلام کی تلوار نے ان پر دوں کو چاک کر دیا جو دلوں پر پڑے ہوئے تھے“ ( الجہاد فی الاسلام صفحہ ۱۴۱-۱۴۲) ایسی تحریر تو تاریخ سے کلیہ ناواقف شخص کی ہو سکتی ہے۔اس اعلان کے ایک ایک لفظ کو انڈونیشیا کا ہر مسلمان جھٹلا رہا ہے، اس اعلان کے ایک ایک لفظ کو چین کے وہ چار صوبے جو تمام تر مسلمان ہو چکے ہیں وہ سب جھٹلا رہے ہیں۔اسلام کی کوئی تلوار نہ انڈو نیشیا پہنچی نہ ملایا اور نہ چین۔ان کا ایک ایک بچہ ، ان کی ایک ایک عورت، ان کا ایک ایک مرد ایک ایک جوان اور ایک ایک بوڑھا مودودی صاحب کے اعلان کو جھٹلا رہا ہے اور اعلان کر رہا ہے کہ خدا کی قسم محمد کی تلوار نے نہیں محمد کے حسن نے ہمیں فریفتہ بنایا تھا اور اس کے حسن اور قوت قدسیہ نے ہمارے دل جیتے ہیں۔انقلاب کیسے بر پا ہوا، کون سا جہاد تھا جس کے نتیجہ میں آنحضرت عے کو عظیم الشان غلبہ نصیب ہوا اس سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا انقلاب دعاؤں کے ہی نتیجہ میں رونما ہوا تھا۔آپ فرماتے ہیں: وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں