خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 137
خطبات طاہر جلدم 137 خطبه جمعه ۱۵ار فروری ۱۹۸۵ء مفتی مکہ معظمہ اور حسین بن ابراہیم مالکی مفتی مکہ سے بھی فتاویٰ حاصل کئے گئے جن میں ہندوستان کے دارالاسلام ہونے کا اعلان کیا گیا تھا“۔تو کون سی بات باقی رہ گئی ہے کہاں کے مولوی بولیں گے اب ! مولوی مودودی جنہوں نے ”حقیقت جہاد ، لکھی اور اپنی بعض اور کتب میں بھی جہاد کے متعلق ایسی تعلیم دی جس کا کوئی ہوش و حواس والا مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا کہ آنحضرت ﷺ کے جہاد کے متعلق ایسے ظالمانہ خیالات کا اظہار ہو سکتا ہے۔جہاد سے متعلق سب سے منتشدّ دنظریہ رکھنے والے آج مولوی مودودی ہیں (یعنی مراد یہ ہے کہ اس وقت ان کا فرقہ ہے جو ان کی باتوں کو تسلیم کرتا ہے آپ خود تو فوت ہوچکے ہیں ) جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے ہندوستان کا تعلق ہے مولوی مودودی اپنی کتاب ” سود حصہ اول میں اس کے متعلق فرماتے ہیں:۔”ہندوستان اس وقت بلاشبہ دارالحرب تھا“ دار الاسلام نہیں کہہ رہے۔کس وقت دار الحرب تھا؟) رہی تھی۔” جب انگریزی حکومت یہاں اسلامی سلطنت کو مٹانے کی کوشش کر بعینہ یہی تعلیم جماعت احمدیہ کی ہے کہ جب کوئی غیر پہلے حملہ کرتا ہے تو اس سے لڑو، اپنی عزتوں کی حفاظت کرو، اپنے مال کی حفاظت کرو، اپنے دین کی حفاظت کرو اور ایک ایک بچہ بھی کٹ کر مر جائے تو تم نے ہتھیار نہیں ڈالنے، اس وقت دارالحرب ہوتا ہے اس وقت ہر قسم کا دفاع جہادِ اسلام کہلا سکتا ہے چنا نچہ مولوی مودودی بھی یہی بات کہتے ہیں ) اس وقت مسلمانوں پر فرض تھا کہ یا تو اسلامی سلطنت کی حفاظت میں جانیں لڑاتے یا اس میں نا کام ہونے کے بعد یہاں سے ہجرت کر جاتے لیکن جب وہ مغلوب ہو گئے اور انگریزی حکومت قائم ہو چکی اور مسلمانوں نے اپنے پرسنل لاء پر عمل کرنے کی آزادی کے ساتھ یہاں رہنا قبول کر لیا تو اب یہ ملک دار الحرب نہیں رہا سود حصہ اوّل شائع کردہ مکتبہ جماعت اسلامی لا ہور صفحہ ۷۷-۷۸)