خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 134 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 134

خطبات طاہر جلدم 134 خطبه جمعه ۱۵ار فروری ۱۹۸۵ء پس آج یہ امام کہاں سے آگیا؟ کیا اس امامت کے لئے فوجی حکومت درکار ہوا کرتی ہے؟ خدا تعالیٰ نے مذہبی دنیا میں فوجی حکومتوں کے ذریعہ کب امام قائم کروائے تھے؟ پھر فرماتے ہیں: اس وقت نہ کوئی مسلمانوں کا امام موصوف بصفات وشرائط امامت موجود ہے اور نہ ان کو ایسی شوکت جمعیت حاصل ہے جس سے وہ اپنے مخالفوں پر فتح یاب ہونے کی امید کر سکیں۔(الاقتصاد فی مسائل الجہاد صفحہ ۷۲۰) سرسید احمد خان صاحب نے ۱۸۵۷ء کے غدر میں جو لوگ شریک ہوئے ان کے متعلق فرمایا کہ: البتہ چند بد ذاتوں نے دنیا کی طمع اور اپنی منفعت اور اپنے خیالات پورا کرنے اور جاہلوں کے بہکانے کو اور اپنے ساتھ جمعیت جمع کرنے کو جہاد کا نام لے دیا۔پھر یہ بات مفسدوں کی حرام زدگیوں میں سے ایک حرام زدگی تھی نہ واقع جہاد“ (رسالہ بغاوت ہند مؤلفه سرسید احمد خان صفحه : ۱۰۴) اعلیٰ حضرت سید احمد رضا خان صاحب بریلوی امام اہل سنت بریلوی فرقہ فرماتے ہیں: ہندوستان دارالاسلام ہے اسے دارالحرب کہنا ہر گز صحیح نہیں، وو نصرت الابرار صفحہ : ۲۹ مطبوعہ لاہور ) حضرت سید احمد صاحب بریلوی شہید جنہوں نے جہاد کیا اور جہاد کے لئے آپ سرحد کی طرف روانہ ہوئے اور سکھوں سے بھی لڑائی کی وہ ایک مقدس دل ضرور تھا جس میں مسلمانوں کی غیرت موجزن تھی لیکن جہاں تک انگریزی حکومت کا تعلق ہے اس کے متعلق وہ کیا سمجھتے تھے اس بارہ میں آپ کے سوانح نگار محمد جعفر تھانیسری کی زبانی سنئے۔وہ ”سوانح احمدی کلاں“ کے صفحہ نمبر اے پر لکھتے ہیں: د کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ آپ اتنی دور سکھوں پر جہاد کرنے کیوں جاتے ہو؟ انگریز جو اس ملک پر حاکم ہیں اور دین اسلام سے کیا منکر نہیں ہیں۔گھر کے گھر میں ان سے جہاد کر کے ملک ہندوستان کو لے لو۔آپ نے فرمایا۔۔۔سرکار انگریزی گومنکر اسلام ہے مگر مسلمانوں پر کچھ ظلم اور تعدی نہیں