خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 133
خطبات طاہر جلدم 133 خطبه جمعه ۱۵ار فروری ۱۹۸۵ء میں آگاہ کرتے تھے، ان کے سامنے ان کے عقائد بالکل کچھ اور نظر آتے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سب سے بڑے دشمن اور جہاد کے معاملہ میں معترض تھے لکھتے ہیں: مفسدہ ۱۸۵۷ء میں جو مسلمان شریک ہوئے تھے وہ سخت گناہ گار اور با حکم قرآن وحدیث وہ مفسد ، باغی، بدکردار تھے پھر فرماتے ہیں: اس گورنمنٹ سے لڑنا یا ان سے لڑنے والوں کی (خواہ ان کے بھائی مسلمان کیوں نہ ہوں ) کسی نوع سے مدد کر نا صریح غد ر اور حرام ہے“۔(اشاعۃ السنة النبویہ جلد ۹ نمبر ۱۰ صفحه: ۳۰۸) پھر اپنی کتاب "اقتصاد فی مسائل الجہاد کے صفحہ نمبر 4 اپر رقم طراز ہیں: اس مسئلہ اور اس کے دلائل سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ملک ہندوستان باوجود یکہ عیسائی سلطنت کے قبضہ میں ہے دارالاسلام ہے اس پر کسی بادشاہ کو عرب کا ہو خواہ عجم کا مہدی سوڈانی ہو یا حضرت سلطان شاہ ایرانی خواہ امیر خراسان ہو مذہبی لڑائی و چڑھائی کرنا ہرگز جائز نہیں۔“ یعنی ملک کے اندر جو بستے ہیں ان پر تو بادشاہ وقت کی اطاعت کرنا اور حکومت وقت کی بات ماننا فرض ہے ہی لیکن مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یہ فتویٰ دوسرے ممالک کے لئے بھی دے رہے ہیں کہ تم جو انگریزی حکومت سے باہر بس رہے ہو تم بھی اگر انگریزی حکومت سے لڑو گے تو یہ تمہارے لئے بھی حرام ہے۔پھر فرماتے ہیں: ”اہل اسلام کو ہندوستان کے لئے گورنمنٹ انگریزی کی مخالفت اور بغاوت حرام ہے۔‘ ( اشاعۃ السنہ جلد ۶ نمبر، صفحہ : ۲۸۷) اس زمانہ میں بھی شرعی جہاد کی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ اس وقت نہ کوئی مسلمانوں کا امام موصوف بصفات و شرائط امامت موجود ہے۔( الاقتصاد فی مسائل الجهاد صفحه: ۷۲)