خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 132

خطبات طاہر جلدم 132 الحرب یعنی مسیح جب آئے گا تو دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا“ خطبه جمعه ۱۵ار فروری ۱۹۸۵ء گورنمنٹ انگریزی اور جہادروحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ : ۱۵) پس یہ تو آنحضرت ﷺ کا ہی ارشاد ہے پھر آپ تحفہ قیصریہ میں تحریر فرماتے ہیں: اور دوسرا اصول جس پر مجھے قائم کیا گیا ہے وہ جہاد کے اس غلط مسئلہ کی اصلاح ہے جو بعض نادان مسلمانوں میں مشہور ہے۔سو مجھے خدا تعالیٰ نے سمجھا دیا ہے کہ جن طریقوں کو آج کل جہاد سمجھا جاتا ہے وہ قرآنی تعلیم سے بالکل مخالف ہیں۔بے شک قرآن شریف میں لڑائیوں کا حکم ہوا تھا جو موسیٰ کی لڑائیوں سے زیادہ معقول اور یشوع بن نون کی لڑائیوں سے زیادہ پسندیدگی اپنے اندر رکھتا تھا اور اس کی بناء صرف اس بات پر تھی کہ جنہوں نے مسلمانوں کے قتل کرنے کے لئے ناحق تلوار میں اٹھائیں اور ناحق کے خون کئے اور ظلم کو انتہا تک پہنچایا ان کو تلواروں سے ہی قتل کیا جائے“۔تحفہ قیصر یہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۶۲) یہ ہے خلاصہ اس قرآنی تعلیم کا جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں ملتا ہے جس کی میں نے خطبہ سے پہلے تلاوت کی تھی۔کوئی عالم دین ہے؟ جو ان باتوں میں سے آج بھی کوئی غلط ثابت کر کے دکھائے اور بتائے کہ کہاں اعتراض کی گنجائش ہے۔محض ایک فرضی اور جھوٹی بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف دیدہ دانستہ منسوب کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے خود آپ کی کتابوں کو پڑھا ہوا ہے مگر پھر بھی یہ سارے پہلو چھپاتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو انگریزوں نے جہاد کی تنسیخ کے لئے کھڑا کیا تھا اور اگر آپ کھڑے نہ ہوتے تو انگریز مارا جاتا اور مسلمانوں نے سلطنت انگریزی کو تباہ کر کے رکھ دینا تھا اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام ان سے جہاد کرنا منع نہ فرماتے۔اب ان علماء کا حال سنئے جو آج بڑھ بڑھ کر یہ الزام لگا رہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اس وقت یہی باتیں مسلمانوں میں خفیہ طور پر پھیلایا کرتے تھے۔۔۔جہاں تک دنیا کے سامنے باتوں کا تعلق ہے وہ کچھ اور کہا کرتے تھے لیکن انگریزی حکومت کو اپنے عقائد سے بالکل مختلف زبان