خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 125
خطبات طاہر جلدم 125 خطبه جمعه ۱۵ار فروری ۱۹۸۵ء کھڑا کیا جا رہا ہے اور دعاوی وہ کروائے جارہے ہیں کہ جن کے بعد وہ لوگ جو کچھ تعلق رکھنے والے تھے وہ بھی خون کے پیاسوں میں تبدیل ہو جائیں ایسی جہالت کی بات کسی ایسے شخص کی عقل میں آ جائے جس قسم کے اشخاص آج کل احمدیت کی دشمنی میں نمایاں ہیں تو یہ ممکن ہے۔لیکن دنیا کا کوئی معقول آدمی اسے تسلیم نہیں کر سکتا۔یعنی آپ کے ہاتھوں اپنا مصنوعی خدا مر والیا اور نبوت یعنی امتی نبی کا دعوی کروا کر تمام مسلمانوں کو آپ کا دشمن بنوا دیا۔حضرت بابا نانک کے متعلق اعلان کرا کے ان تمام سکھوں کو جو پنجاب میں ارد گرد بستے تھے دشمن بنا دیا۔آریوں سے ٹکر لگوائی اور سارے آریہ سماج کو دشمن بنادیا۔سناتن دھرمیوں سے ٹکر لگوائی اور سارے سناتن دھرمیوں کو دشمن بنوا دیا، بدھوں کے متعلق وہ اعلان کروایا جو انہیں قبول نہ تھا، زرتشتیوں کے متعلق وہ اعلان کروایا جو انہیں قبول نہیں تھا اور تمام دنیا میں جتنی قو میں بھی مذہب کی طرف منسوب ہوتی ہیں ان سب کو چیلنج دلوا دیا اور ہر ایک کے متعلق ایسی بات کہلوائی جو سب کے دل کو کڑوی لگتی تھی اس قسم کا مدعی تو کبھی دنیا میں کسی نے نہیں دیکھا کہ باتیں وہ کہے جو کڑوی ہوں اور ہر ایک کو تکلیف پہنچاتی ہوں اور مقصد اس کا یہ ہو کہ لوگوں کو اپنے پیچھے چلائے اور ان کے خیالات تبدیل کرے۔اس قسم کے اشخاص تو سوائے نبوت کے کبھی منصہ شہود پر نہیں ابھرا کرتے۔قرآن کریم کی تاریخ اٹھا کر دیکھئے تو اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ واقعہ نبوت کے سوا ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوتا کہ ایک شخص ساری دنیا کو اپنی طرف بلانے والا ہو اور دعوئی ایسا کر دے جو ساری دنیا کو قبول نہ ہو اور یہ ایک حقیقت ہے کہ وقت کا سب سے کر وا دعویٰ یہ ہوا کرتا ہے کہ ”خدا نے مجھے بھیجا ہے جس کے نتیجہ میں غیر تو غیر اپنے بھی ساتھ چھوڑ دیا کرتے ہیں۔پس ایسا دعوئی انگریز نے کروا دیا جو ان مخالفین کے نزدیک قطعاً جائز نہیں اور پھر توقع یہ رکھی کہ جب یہ شخص کہے گا کہ جہاد کا خیال چھوڑ دو تو سارے مسلمان ایک دم جہاد کا خیال چھوڑ دیں گے اور انگریزی حکومت کی ساری سر دردی ختم ہو جائے گی ، سارے مسائل حل ہو جائیں گے کیونکہ حضرت مرزا صاحب نے جو اعلان کر دیا۔یہ بات ان لوگوں کی عقل میں آجائے تو آجائے کوئی معقول انسان ایسی الٹی بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔پھر حالات کیا تھے جن سے انگریزوں کو خطرہ تھا۔آئیے ! اب ہم ان حالات اور اس سیاسی پس منظر کا جائزہ لیں جس وقت انگریز ہندوستان میں داخل ہوا اور اس نے اپنی حکومت مستحکم کی ہے۔