خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 123
خطبات طاہر جلدم 123 خطبه جمعه ۱۵ر فروری ۱۹۸۵ء حکومتی قرطاس ابیض کے الزامات کے جواب اسلام کا نظریہ جہاد اور جماعت احمدیہ ( خطبه جمعه فرموده ۱۵ / فروری ۱۹۸۵ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات تلاوت کیں: أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا أَنْ تَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوتُ وَ مَسجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزُ ( سورة الحج : ۳۰-۴۱) اور پھر فرمایا: حکومت پاکستان کے شائع کردہ رسالہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف جو بہتان لگائے گئے ہیں اور الزام تراشیوں سے کام لیا گیا ہے ان میں ایک اہم الزام یہ ہے کہ آپ نعوذ باللہ من ذالک انگریزوں کے خود کاشتہ پودا تھے۔گویا جماعت احمد یہ انگریزوں کی ہی قائم کردہ ایک جماعت ہے۔اس سلسلہ میں گزشتہ خطبہ میں اس الزام کے ایک پہلو سے متعلق میں نے احباب جماعت کو مخاطب کیا تھا اور اس کے مختلف زاویوں اور مختلف حصوں پر روشنی ڈالی تھی اب