خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 6
خطبات طاہر جلد۴ خطبه جمعه ۴ /جنوری ۱۹۸۵ء حتی المقدور کوشش کرتے رہیں۔اسی کے ساتھ ہی میں آپ سب کو نئے سال کی مبارک باد بھی دیتا ہوں اور نئے سال کی مبارک باد کے طور پر کچھ اچھی خبریں بھی آپکو سناتا ہوں جو پاکستان سے باہر سے بھی تعلق رکھتی ہیں اور پاکستان کے اندر سے بھی تعلق رکھتی ہیں۔جہاں تک جماعت کے اوپر اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کا تعلق ہے ان کا تو شمار ممکن نہیں ہے اور جتنے شعبے جماعت کے کام کر رہے ہیں ان سب کا ذکر کر کے اگر خدا تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کو سمیٹنے کی کوشش کی جائے تو وہ بھی ایک خطبہ جمعہ میں تو ممکن ہی نہیں ہے۔اس سے پہلے جب جلسہ سالانہ کی اجازت ہوتی تھی تو دوسرے دن کی تقریر میں جماعت احمدیہ کی مختلف جہت میں ترقیات کا ذکر ہوا کرتا تھا اور اس میں بھی میں نے دیکھا ہے کہ انتہائی کوشش کے باوجود بھی پچھلے دو سالوں کا تجربہ تو یہ ہے کہ کبھی بھی پورے واقعات نوٹس (Notes) کے مطابق بیان نہیں کر سکا حالانکہ دو تین گھنٹے کی کھلی تقریر ہوتی ہے بڑھایا بھی جاسکتا ہے لیکن بار بار نوٹس چھوڑ کر بعض جگہوں سے آگے گذر کے جلدی میں ہی باتیں بیان کرنی پڑتی تھیں تا کہ کچھ اور اہم نکتے جو بعد میں آنے ہوتے ہیں وہ رہ نہ جائیں تو یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک جمعہ کے محمد ودعرصہ میں میں یہ ساری باتیں بیان کرسکوں لیکن بعض پہلوؤں سے میں نے چند چیزیں صرف اخذ کی ہیں تاکہ جماعت احمدیہ کو جو شوق ہے ہمیشہ خوشخبریاں سنے کا اللہ تعالیٰ ان کے دل راضی کرے اور ان کو بتائے کہ یہ جو گذشتہ سال گزرا ہے یہ کسی لحاظ سے بھی پہلے سالوں سے کم نہیں آیا بلکہ بہت ہی زیادہ برکتیں لے کر آیا ہے۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ تبلیغ کے معاملہ میں جماعت میں ایک عظیم الشان ولولہ پیدا ہو گیا ہے پچھلے سال اور کوئی ایک بھی ملک ایسا نہیں ہے جہاں نئے نئے داعی الی اللہ پیدا نہیں ہورہے اور کثرت کے ساتھ ان کی کوششوں کو پھل لگنے لگے ہیں۔نئی نئی جماعتیں خدا تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں ، نئے نئے ملکوں میں اللہ تعالیٰ نے جماعت کا پودا لگایا ہے اور بعض ملکوں میں تو جماعتوں کے طور پر جس کو فوج در فوج کہتے ہیں اس طرح لوگ داخل ہوئے ہیں اور چونکہ یہ صورت حال یعنی تبلیغ میں ایک نیا ولولہ اور نیا جوش ساری دنیا میں نمایاں ہے اس لئے کسی ایک ملک کا نام تو نہیں لیا جا سکتا لیکن آپ چونکہ یورپ میں رہنے والے ہیں اس لئے آپ کو آپ کے ملکوں کے متعلق میں بتاتا ہوں کیونکہ