خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 120 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 120

خطبات طاہر جلدم 120 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء شدید ترین دشمنوں کے متعلق بھی جو اسلام کے نام لیوا اور مسلمان ہونے کے دعویدار تھے فرماتے ہیں۔اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کاخر کنند دعوی حب پیمبرم فرمایا یہ لوگ مجھے گالیاں دیتے ہیں مجھے کا فر اور مرتد قرار دیتے ہیں اور بھی نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں ان کے نزدیک میرا خون مباح ہو گیا ہے، میرے ماننے والوں کا خون مباح ہو گیا ہے۔ان کے نزدیک نہ ہماری عزت کی کوئی قیمت ہے نہ ہمارے مال کی کوئی قیمت ہے، نہ ہماری جان کی کوئی قیمت ہے پھر بھی اے خدا ! میں ان پر بھی بددعا نہیں کرتا ، کیوں بددعا نہیں کرتا اس لئے کہ میرے محبوب آقا محمد مصطفی ﷺ کی محبت کے دعویدار ہیں۔یہ جھوٹے ہی سہی ، ان کا کردار کیسا ہی بگڑ چکا ہے۔ان کے ایمان میں کیسے ہی رخنے پڑ چکے ہیں مگر اے میرے دل ! تو ہمیشہ اس بات کی لاج رکھنا کہ یہ لوگ میرے محبوب، میرے آقا، میری محبتوں کے مرکز و منتہاء محمد مصطفی ﷺ کے نام لیوا اور آپ کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں اس لئے ان کے خلاف کبھی بددعا نہیں کرنی۔پس یہ کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کے لئے گداز دل رکھنے والا یہ وجود اور اس کی جماعت تو نعوذ باللہ من ذالک اسلام کے غدار ہیں لیکن مولویوں کا یہ ٹولہ ہے جو بزعم خویش اسلام کے ہمدرد، اسلام کی خاطر لڑنے والے اور اسلام کے مجاہدین بنے پھرتے ہیں یہ اسلام کے خیر خواہ ہیں۔آخر وہ کون سا کردار ہے جسے یہ لوگ قیامت کے دن خدا کے حضور پیش کریں گے اور بتائیں گے کہ انہوں نے اسلام کی سربلندی کے لئے اور اس کے دفاع میں یہ یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا۔کل تک صورت حال مختلف تھی اس وقت ابھی مسلمان علماء اور مفکرین میں حق بات کہنے کی جرات تھی حق بات کہنے سے وہ شرمایا نہیں کرتے تھے۔یہ وہ زمانہ تھا کہ کبھی مولانامحمد حسین صاحب بٹالوی کے قلم سے بھی یہ بات نکل جاتی تھی کہ اسلام کے دفاع میں سب سے زیادہ شاندار لڑنے والا اگر کوئی پیدا ہوا ہے تو وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ مرزا صاحب کے دعوی سے پہلے کی بات ہے لیکن مولوی نور محمد صاحب نقش بندی کا جو حوالہ میں نے پڑھا ہے وہ تو دعوئی سے پہلے کی بات نہیں وہ تو دعوی مسیحیت کے بہت بعد کی تحریر ہے۔۔