خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 119
خطبات طاہر جلد۴ 119 خطبه جمعه ۸ فروری ۱۹۸۵ء قرآن کریم تو ایک نہایت ہی حسین اور پر حکمت کتاب ہے جو شرف انسانی کو قائم کرتی ہے، انسانی مساوات کی علمبردار ہے اور رحمت اور رافت کی تعلیم دیتی ہے۔ اس میں تو انسان کے بنیادی حقوق کو تلف کرنے کی ایسی کوئی تعلیم نہیں لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ منوجی سے شریعت لے لی ہے اور اب یہ لوگ منو کی تعلیم کو وہاں مسلمانوں کے خلاف اور یہاں بھی مسلمانوں کے خلاف نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ منوجی کے قوانین میں پھر یہ بھی لکھا ہے: وو ( اونچی ذات کا ہندو اگر ) اپنی حاجت کی چیزیں کسی ولیش یا شودر کے گھر سے خود چرالے یا چوری کر والے۔ بادشاہ کو ایسے مظلوم کی فریاد کو نہیں پہنچنا چاہئے ۔ شودر کی مکتی اسی میں ہے کہ برہمن کی خدمت کیا کرے اور سب کام بے فائدہ ہیں۔ سنیچ ذات کو روپیہ جمع کرنے کی اجازت نہیں مبادا وہ مالدار ہو کر اونچی ذات کے لوگوں پر حکم کرے۔ منوسمرتی ادھیائے ۸ شلوک ۳۸۱،۳۸۰) اب دیکھ لیجئے کہ عیسائیوں کے ایجنٹ کون ہیں اور ہندوؤں کا ایجنٹ کون ہے اور غیر مذاہب اور غیر طاقتوں کا ایجنٹ کون ہے۔ مسجد میں بیچ کر کھا جانے والے علماء کا یہ ٹولہ مسلمان عورتوں کی عزت و ناموس سے ایسے بے پرواہ کہ ان پر کسی قسم کا بھی ظلم ہو یہ کہتے ہیں ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے استعماری طاقتوں کی شہہ پر نہتے فلسطینیوں پر گولیاں چلانے سے دریغ نہیں کیا تھا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ اسلام کے مقابل پر عیسائیت کی تائید کی اور حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کو ثابت کرنے کے لئے صدیوں سے وقف ہوئے پڑے ہیں۔ پس استعماری طاقتوں اور اسلام دشمن تحریکوں کے ایجنٹ یہ لوگ ہیں یا جماعت احمد یہ ہے جس نے ہمیشہ اسلام کی برتری اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کے جھنڈے کو سر بلند کرنے کے لئے اپنی ہر چیز داؤ پر لگا صلى الله علوس رکھی ہے اور اسلام کی خاطر ہر قربانی کے لئے کبھی ایک لحظہ کے لئے تر در اختیار نہیں کیا۔ ان لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ بیچارے وہ مسلمان جن کو خود بھی مسلمان تسلیم کرتے ہیں ان پر انتہائی مظالم ہور ہے ہوں تب بھی ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اس کے برعکس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن پر الزام کے حضرت وئے اور گندا اچھالتے ہوئے ان کی زبانیں نہیں تھکتیں ان کے دل کی یہ کیفیت تھی کہ اپنے لگاتے