خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 118 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 118

خطبات طاہر جلدم 118 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء گئے ہیں ہم تو غصب کریں گے چاہے اس کے نتیجہ میں کروڑوں مسلمانوں کو ، غیر مسلم حکومتوں میں ظلم و ستم کا نشانہ ہی کیوں نہ بننا پڑے۔اب منو کے قوانین سن لیجئے وہ کیا ہیں جن کے متعلق مولوی مودودی ، عطاء اللہ شاہ بخاری اور حامد بدایونی صاحب کہتے ہیں کہ مسلمانوں پر بے شک منوشاستر کے قوانین چلیں انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔منوجی ویدوں کی رو سے فرماتے ہیں کہ: اگر رذیل کی دختر سے کوئی شریف برہمن وغیرہ زنا کر بیٹھے تو کوئی دوش کی بات نہیں اور کسی قسم کا مواخذہ نہیں“ یعنی غیر ہندو یا چھوٹی ذات والا رذیل کہلاتا ہے ان کی عورتوں کی برہمن بے حرمتی کرے تو کہتے ہیں کوئی دوش کی بات نہیں اور ان سے کسی قسم کا مواخذہ نہیں ہوگا اور ادھر مولوی مودودی ،سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور حامد بدایونی یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر مسلمان عورتوں سے ہندوستان میں یہ سلوک ہو تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ہمارے دل کی دھڑکن تیز نہیں ہوگی اور خون تو در کنار ہم دو آنسو تک نہ بہائیں گے۔حیف در حیف کہ امت محمدیہ کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی اتنی بھی غیرت ان مولویوں کے دلوں میں نہیں بلکہ ان کا جذبہ اسلام تو بس یہیں تک ہے کہ احمدیوں کی جان، مال اور عزت کے درپے ہو جائیں۔منوجی کی زبان میں مزید سنئے۔شلوک نمبر ۳۸۱،۳۸۰ میں لکھا ہے: برہمن خواہ کتنے ہی بڑے جرم کا مرتکب ہو ہر گز قتل نہ ہونا چاہئے۔برہمن کے قتل کے برابر کوئی گناہ نہیں۔برہمن پہنچ ذات کی لڑکی کو اپنی زوجیت میں لاسکتا ہے اور اگر کسی نیچ ذات کے پاس سونا چاندی یا خوبصورت چیز ہو تو برہمن انہیں اپنے تصرف میں لاسکتا ہے۔لیکن اگر کوئی نیچ ذات ایسا فعل کرے تو جلتے ہوئے لوہے کی چادر پر جلا کر مارا جائے۔ایسا ہی اگر برہمن کسی شودر کو وید پڑھتا ہو اسن پائے تو اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سکہ اور جلتی ہوئی موم بتی ڈالی جائے۔آج کل پاکستان میں جو شریعت نافذ کی جارہی ہے وہ قرآن کریم سے تو نہیں لی گئی کیونکہ