خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 116 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 116

خطبات طاہر جلدم 116 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء گے کیونکہ ان کو مسلمانوں کے مساوی حقوق حاصل نہیں ہوں گے۔وضع قوانین میں ان کی کوئی آواز نہ ہوگی۔قانون کے نفاذ میں ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا اور انہیں سرکاری عہدوں پر فائز ہونے کا کوئی حق نہ ہوگا“۔مولا نا حامد بدایوانی صاحب نے کہا کہ رپورٹ منیر انکوئری تحقیقاتی عدالت صفحه ۲۲۹) پاکستان کے غیر مسلم نہ تو شہری ہوں گے نہ انہیں ذمیوں یا معاہدوں کی حیثیت حاصل ہوگی“۔اس پر فاضل جوں نے یہ سوال کیا کہ اگر یہ بات درست ہے تو بتائیے کہ وہ مسلمان غریب جو ہندوستان میں بس رہے ہیں آپ کے نزدیک ان سے اگر یہی سلوک ہندوستان کی حکومت کرے اور منو کی شریعت ان پر نافذ کرنے کی کوشش کرے تو ان کو اس کا حق ہوگا یا نہیں؟ اس پر جمعیۃ العلماء پاکستان کے صدر محمد احمد صاحب قادری نے یہ جواب دیا: ”ہندوؤں کو جو ہندوستان میں اکثریت رکھتے ہیں ہندو دھرم کے ماتحت مملکت قائم کرنے کا حق ہے اور اگر اس نظام حکومت میں منو شاستر کے ماتحت مسلمانوں سے ملیچھ یا شودروں کا سا سلوک کریں تو ان پر مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا“۔(رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ نمبر ۲۴۵) گویا ہندوستان میں جب مسلمانوں کا قتل عام ہو یا فلسطین میں مسلمانوں کو تہ تیغ کیا جائے یا دنیا کے دوسرے ممالک میں مسلمانوں پر قیامت توڑی جائے تو مسلمان کہلانے والے ان مولویوں کی زبان سے آپ کوئی ایسا کلمہ نہیں سنیں گے جس سے اظہار غم تو در کنار انسانی دُکھ کا احساس ہی جھلکتا ہو۔یہ لوگ کبھی ایک لفظ بھی نہیں بولے کہ انہیں دوسرے ممالک میں مسلمانوں کے مصائب سے تکلیف ہوئی ہے اور ہندوستان میں مسلمانوں سے جو کچھ ہوتا ہے اس سے بھی بے نیاز ہیں کیونکہ خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا جب ہم پاکستان میں غیر مسلموں سے یہ سلوک کر رہے ہیں تو ظاہر بات ہے کہ غیر مسلموں کا بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنے ملک میں مسلمانوں پر مظالم توڑیں پس جہاں ہمارا زور چلے گا ہم زور لگائیں گے اور جہاں ہندوؤں کا مسلمانوں کے خلاف زور