خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 115
خطبات طاہر جلد۴ 115 خطبه جمعه ۸ فروری ۱۹۸۵ء یہ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ احرار پاکستان کے مخالف تھے۔۔۔۔۔۔۔اس مقرر نے تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد بھی پاکستان کے لئے پلیدستان کا لفظ استعمال کیا اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنی تقریر میں کہا، پاکستان ایک بازاری عورت ہے جس کو احرار نے مجبوراً قبول کیا ہے“۔(رپورٹ منیر انکوائری - تحقیقاتی عدالت صفحه ۲۷۴) یہ ہے ان لوگوں کا کردار جو آج جماعت احمدیہ پر غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو آج ایک عظیم اسلامی مملکت کی فوج پر مسلط ہو چکے ہیں اور فوج پر انہی کا حکم چل رہا ہے۔یہ وہ ہیں جو کل بھی پاکستان کے مخالف تھے پر سوں بھی مخالف تھے اور آج بھی مخالف ہیں۔یہ وہی ہیں جو پاکستان کو پہلے بازاری عورت سمجھتے تھے اور آج بھی بازاری عورت سمجھ رہے ہیں اور پاکستان کے ساتھ بازاری عورتوں والا سلوک کر رہے ہیں۔یہ ان کا کردار ہے یہ ان کی زبان ہے۔کہ اسلام کے نام پر حاصل ہونے والی مملکت کو انہوں نے بازاری عورت سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔جہاں تک مسلمانوں کے مفاد کا تعلق ہے اس میں احراریوں کو کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ ان کے طرز عمل اور ان کے طرز فکر کے نتیجے میں مسلمانوں پر کیا بیتا ٹوٹتی ہے ان کے دل میں عالم اسلام کے لئے ایک ذرہ بھی رحم موجود نہیں ہے۔چنانچہ اسی عدالت جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے اس کے جوں نے احراری مولویوں کے سامنے یہ مسئلہ خوب کھول کے رکھا اور کہا کہ تم تو یہاں غیر مسلموں کے انسانی حقوق اسلام کے نام پر تلف کرنے کے دعویدار ہو۔تم اس ملک کی چاردیواری میں حفاظت میں ہو جس کو تم نے ایک بازاری عورت کے طور پر قبول کر لیا ہے۔اس ملک کی حفاظت کے برتے پر تم بڑے بڑے بول بول رہے ہو اور کہہ رہے ہو کہ بہت اچھا پاکستان بن گیا ہے تو اب غیر مسلموں کے لئے اس میں کوئی جگہ نہیں اور ہم ان کے تمام انسانی حقوق تلف کرلیں گے تو فاضل جوں نے احراری مولویوں سے پوچھا: اگر ہم اسلامی دستور نافذ کریں گے تو پاکستان میں غیر مسلموں کا موقف کیا ہوگا۔ممتاز علماء کی رائے یہ ہے کہ پاکستان کی اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کی حیثیت ذمیوں کی سی ہوگی اور وہ پاکستان کے پورے شہری نہ ہوں