خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 111 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 111

خطبات طاہر جلدم 111 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء چنانچہ حکومت نے جب یہ کارنامہ سرانجام دیا تو اس وقت پاکستان کے عیسائیوں کی طرف سے اس کا جو پر جوش خیر مقدم کیا گیا وہ بھی سن لیجئے : راوالپنڈی ۳۰ را پریل پاکستان مائناریٹیز کونسل اور اصلاح معاشرہ کمیٹی کے چیئر مین چودھری سلیم اختر ( یہ بڑے کٹر عیسائی ہیں۔ناقل ) نے مرزائیوں کے بارے میں صدر پاکستان کی طرف سے جاری شدہ حالیہ آرڈینینس کا پر جوش خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے جرأت مندانہ اقدام کر کے نہ صرف امت مسلمہ بلکہ پاکستان میں رہائش پذیر اقلیتی فرقوں کے دل بھی جیت لئے ہیں۔چودھری سلیم اختر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انگریزوں کے کاشتہ اس فرقے کی مذموم سرگرمیاں صرف اسلام کے ہی نہیں عیسائیت کی تعلیمات کے منافی بھی تھیں احمدیت کو انگریز کا خود کاشتہ پودا قرار دینے والے ذرا پھر اس عبارت کو پڑھیں۔آج کے ایک دیسی عیسائی کو بھی بخوبی علم ہے کہ احمدیت عیسائیت کے خلاف ایک سنگین خطرہ ہے تو کیا سلطنت برطانیہ کو اس کا علم نہ ہو سکا کہ خود اپنے ہاتھوں ایسا پودا لگا دیا جو عیسائیت کونا بود کرنے والا ہو۔انگریزوں کے کا شتہ اس فرقے کی مذموم سرگرمیاں صرف اسلام کے ہی نہیں عیسائیت کی تعلیمات کے منافی بھی تھیں اور ان سے اسلام کے ساتھ ساتھ عیسائیت کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا تھا دیسی عیسائی یہ کہہ رہا ہے ادھر یوروپین عیسائی یہ کہہ رہا ہے کہ جماعت احمدیہ کی تبلیغی سرگرمیوں کی وجہ سے عیسائیت کو نقصان اور اسلام کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔اسلام کے ہاتھ مضبوط ہورہے ہیں۔اسلام ایک عظیم الشان قوت بنتا چلا جارہا ہے۔آج کا یوروپین عیسائی پادری تو یہ کہ رہا ہے کہ احمدیوں سے یورپ کی عیسائیت کو بھی خطرہ ہے اور افریقہ کی عیسائیت کو بھی خطرہ ہے لیکن چاپلوس لوگ بہر حال حکومت کا مزاج اور اس کی آنکھ، ناک دیکھ کر بات کرتے ہیں اس لئے یہ عیسائی چودھری ساتھ ساتھ یہ بھی رٹ لگائے جا رہا ہے کہ اسلام کو بھی خطرہ ہے(نعوذ باللہ من ذلک ) اور اسلام کے ساتھ ساتھ عیسائیت کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا تھا۔بات یہیں پرختم نہیں ہو جاتی بلکہ لکھا ہے: